صاف انکار پر امریکا پریشان ہو گیا

وزیراعظم عمران خان کے فوجی اڈاے دینے سے صاف انکار پر امریکا پریشان ہو گیا
پاکستان بھی اب اپنے پتے مختلف انداز سے کھیل رہا ہے جس سے بائیڈن انتظامیہ پریشان ضرور ہے۔امریکی ماہرین

لاہور (2021ء) وزیراعظم عمران خان کے فوجی اڈاے دینے سے صاف انکار پر امریکا پریشان ہو گیا ۔تفصیلات کے مطابق امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ افغانستان میں گذشتہ دنوں سے طالبان کی قوت میں ڈرامائی طور پر اس لیے اضافہ ہوا کیونکہ افغان فورسز کو پتہ چل گیا ہے کہ نیٹو فورسز کا انخلا اب حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ۔اس لیے افغان فورسز میں شامل لوگ طالبان کے آگے ہتھیار ڈال کر ان کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ طالبان نے اکثر اضلاع پر قبضہ کر کے غنی حکومت کو ایک نیا چینلج دے دیا۔پروفیسر مائیکل جے رائٹ کے مطابق افغان فورسز میں یہ احساس تقویت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ غیر ملکی فورسز کے انخلاء کے بعد طالبان ان کو نہیں چھوڑیں گے۔اس لیے وہ آہستہ آہستہ پسپائی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ہر روز افغان سپاہیوں کا جتھہ طالبان کی صفوں میں شامل ہونا معمول بن گیا۔پروفیسر یاسمین جواد نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال غنی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ایک طرف تو طالبان فتوحات کا دعویٰ کر رہے ہیں تو دوسری طرف افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کر کے اپنے لیے ایک نئی مصیبت پیدا کر لی۔اگر حالات اسی طرح رہے تو غنی حکومت کا زیادہ دیر اقتدار میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ڈاکٹر تھامس فلپ نے کہا امریکہ کو اکید تھی کہ فوج کے انخلا کے بعد وہ پاکستان کو فوجی اڈے حاصل کرنے کے لیے رضا مند کر لے گا لیکن عمرن خان حکومت ے واضح انکار کی وجہ سے پینٹاگون تذبذب کا شکار نظر آ رہا ہے۔افغانستان کے حالات خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہےہیں۔پاکستان کبھی بھی وہاں بھارت کے اہم رول کو تسلیم نہیں کرے گا۔پاکستان بھی اب اپنے پتے مختلف انداز سے کھیل رہا ہے جس سے بائیڈن انتظامیہ پریشان ضرور ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *