پی ٹی آئی حکومت کے تیسرے بجٹ

پی ٹی آئی حکومت کے تیسرے بجٹ میں خواتین کے لیے بھی مہنگائی
آئندہ مالی سال 22-2021ء کے بجٹ میں میک اپ، شیمپو اور پرفیومز بھی مہنگے کردیے گئے

اسلام آباد (12 جون 2021ء) : پاکستان تحریک انصاف کے تیسرے بجٹ میں خواتین کے لیے بھی مہنگائی ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال 22-2021ء کے بجٹ میں درآمدی میک اپ، خوراک، شیمپو اور پرفیومز بھی مہنگے کردیے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آن لائن خریداری پر سیلز ٹیکس، موبائل فون، ٹائروں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا۔علاوہ ازیں ٹیکسٹائل سے متعلقہ اشیاء کی 164 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی گئی جب کہ قابل ٹیکس آمدنی کا 7.5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 22-2021ء کا بجٹ گذشتہ روز پیش کیا۔ بجٹ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے گذشتہ روز اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا۔وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار 487 ارب روپے ہے۔ بجٹ 22-2021ء میں حکومت نے شہریوں کو مراعات بھی دیں۔ ہر شہری گھرانے کو پانچ لاکھ روپے تک کا بغیر سود قرض دیا جائے گا، کاشت کار گھرانے کو ہر فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے بنا سود قرض دیا جائے گا۔ غریب گھرانوں کو کم خرچ گھر کے لیے 20 لاکھ روپے کا قرض دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کم آمدنی والوں کو اپنے گھر کی تعمیر کے لیے تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔مقامی سطح پر تیار ہونے والی 850 سی سی گاڑیوں پر ایف ای ڈی ختم، سیلز ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد کم کر کے ساڑھے بارہ فیصد کردی گئی جبکہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (ڈبلیو اے ٹی) کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں یکم جولائی سے 10 فیصد اضافہ، سرکاری ملازمین کی پینشنز میں بھی 10 فیصد کا اضافہ، اردلی الاؤنس چودہ ہزار ماہانہ سے بڑھا کر 17 ہزار، گریڈ 1 سے 5 کے ملازمین کے لیے انٹیگریٹڈ الاؤنس ساڑھے چار سو سے 9 سو روپے جبکہ مزدور کی کم سے کم اجرت کو بڑھا کر 20 ہزار روپے ماہانہ کردیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.