اقامے میں تبدیل کرایا جا سکتا

اہلیہ کے وزٹ ویزے کو اقامے میں تبدیل کرایا جا سکتا ہے؟
سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے لیے اقامہ اور رہائشی قوانین واضح ہیں جن پرعمل کرنا سب کے لیے لازمی ہے۔ آجر اور اجیر کے

حوالے سے بھی قوانین موجود ہیں ان سے آگاہی ضروری ہے۔محکمہ پاسپورٹ ’جوازات‘ سے ایک شخص نے پوچھا ہے کہ’ فیملی ڈرائیور چھٹی پر گیا ہوا ہے۔ کورونا کی وجہ سے مسافروں کے آنے پرعارضی پابندی عائد ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ پابندی کب تک ختم ہو گی دوسرا یہ کہ خروج وعودہ کی مدت میں توسیع فیس ادا کرکے کرائی جائے گی؟ جوازات کا کہنا تھا کہ’ ان 20 ممالک سے مسافروں کے مملکت آنے پر 2 فروری 2021 سے پابندی عائد کی گئی تھی جہاں کورونا کی نئی صورتحال کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا تھا‘۔ ’متاثرہ ممالک کے ان شہریوں کے لیے جو سعودی عرب کے اقامہ ہولڈر ہیں کے اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں 31 جولائی تک مفت توسیع کے احکامات صادر ہو چکے ہیں‘۔ ’جوازات اور نیشنل ڈیٹا بیس سینٹر کے اشتراک سے اقامے اور خروج و عودہ کی مدت میں خود کارطریقے سے بغیر کوئی فیس ادا کیے مرحلہ وار توسیع پرعمل درآمد شروع کردیا گیا ہے‘۔ فلائٹوں پرعائد پابندی کے سوال پرجوازات کا کہنا تھا کہ ’جیسے ہی اس حوالے سے سرکاری سطح پر احکامات صادر کیے جائیں گے جوازات کے آفیشل ذرائع سے مطلع کردیاجائے گا‘۔ ایک شخص نے استفسار کیا ہے کہ وزٹ ویزے پرآنے والوں کے لیے حج کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟ جوازات کے قانون کے مطابق وزٹ ویزے پر آنے والوں کو حج کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس سال بھی کورونا کی صورتحال کے باعث حج آپریشن انتہائی محدود کیا گیا ہے۔ جس کے تحت مملکت میں مقیم غیر ملکی اور سعودی شہریوں کی محدود تعداد کو ہی حج پرمٹ جاری کیے جائیں گے۔ واضح رہے کورونا کے علاوہ عام حالات میں بھی ایسے افراد جو وزٹ پرآئے ہوئے ہوتے ہیں انہیں حج ادا کرنے کی قانونی طورپر اجازت نہیں ہوتی۔ جوازات کے ٹوئٹر پرایک شخص کا سوال تھا کہ اہلیہ کو وزٹ پربلایا ہوا ہے کیا ایسا کوئی طریقہ ہے کہ اہلیہ کے وزٹ ویزے کو اقامہ میں تبدیل کرسکوں جبکہ میرا پیشہ بھی فیملی اسٹیٹس کا ہے؟ جوازات کا کہنا تھا کہ’ وزٹ ویزے پرآنے والوں کوچاہئے کہ وہ وقت مقررہ پر واپس لوٹ جائیں بصورت دیگر جرمانہ عائد کیاجاتا ہے‘۔ جہاں تک وزٹ پر آنے والوں کے اسٹیٹس کو اقامہ میں تبدیل کرنے کا سوال ہے تو قانون میں ایسی کوئی شق نہیں ہے۔ وہ تارکین جو قانون کے مطابق فیملی اسٹیٹس کے حامل ہیں انہیں چاہیے کہ وہ باقاعدہ طور پر فیملی ویزا جاری کرائیں جس پراپنی فیملی کو مملکت میں رکھ سکتے ہیں۔ واضح رہے سعودی عرب میں کام کرنے والے وہ غیر ملکی جن کا پیشہ فیملی اسٹیٹس کے زمرے میں ہے انہیں اس امر کی اجازت ہوتی ہے کہ وہ اپنی فیملی کے لیے اقامہ حاصل کرسکیں تاہم اس کےلیے بھی انہیں رہائشی ویزا جاری کرانا پڑتا ہے وزٹ ویزے پربلا کراقامہ بنانے کا کوئی قانونی نکتہ نہیں ہے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.