لمبی بات کرنے پر ٹیکس لگ گیا

موبائل فون پر 5 منٹ سے لمبی بات کرنے پر ٹیکس لگ گیا
ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا لیکن موبائل فون پر 5 منٹ سے زیادہ بات کرنے پر 75 پیسے ٹیکس لیں گے۔وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد (25 جون 2021ء ) حکومت کی جانب سے موبائل فون پر 5 منٹ سے لمبی بات کرنے پر ٹیکس لگا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ حکومت نے موبائل فون پر 5 منٹ سے زائد بات کرنے پر ٹیکس عائد کر دیا ہے ، جس کے تحت موبائل فون پر 5 منٹ سے زیادہ بات کرنے پر 75 پیسے ٹیکس لیں گے لیکن ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا ، نابینا افرادکے لیے خصوصی موبائل پر ٹیکس بھی واپس لے لیا گیا ، موبائل فونز پر موجودہ ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح ساڑھے 12 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کردی گئی ہے ، موبائل سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس 8 فیصد تک بتدریج کم کیا جائے گا۔ وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے سرکاری ملازمین کو خوش خبری سناتے ہوئے جی پی فنڈ پر10 فیصد ٹیکس واپس لینے کا اعلان کردیا، انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈ پر لگایا گیا 10 فیصد ٹیکس واپس لے لیا گیا ہے ، سرکاری ملازمین کے میڈیکل بلز، ڈیری مصنوعات اور نابینا افراد کے لیے خصوصی موبائل پر ٹیکس واپس لے لیا ہے اس کے علاوہ ایک ہزارسی سی تک گاڑیوں پر ٹیکس کی بھی چھوٹ دے دی گئی ہے ، ہم رواں سال ریونیو کا ہدف مکمل کریں گے اور ٹیکس نادہندگان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے ، فوڈ آئٹمز پر ٹیکس واپس لے لیے گئے ہیں ، آٹے اور اس سے منسلک آئٹمز پر بھی کوئی ٹیکس نہیں ہوگا جب کہ پولٹری فیڈ پر ٹیکس 17 سے کم کرکے 10فیصد کردیا گیا اس کے علاوہ سونے اور چاندی پر ٹیکس 17 سے کم کرکے 7 اور 3 فیصد کیا گیا ہے اور موبائل فون پر 5 منٹ سے زائد کال پر 75 پیسے ٹیکس لگایا ہے تاہم زرعی مشینری پر ٹیکس کم کر دیا گیا ہے ، زرعی اجناس کی فروخت کے لیے نیا نظام لایا جا رہا ہے ، پراپرٹی پرٹیکس کی شرح 35 سے20 فیصد کردی گئی ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی ہراسگی سب کا مسئلہ ہے ، اس کی وجہ سے ٹیکس پیئر ریٹرنز فائل نہیں کرتا ، اس حوالے سے ہم تھرڈ پارٹی بنائیں گے جو ایک قانونی اسٹرکچر ہو، ہم صرف آڈٹ کریں گے ، ٹیکس پیئرکے ساتھ گفتگو کی جائے گی لیکن اسے گرفتار نہیں کیا جائے گا ، اس ضمن میں ڈیڑھ کروڑ افراد کی پروفائل آگئی ہیں کہ یہ ٹیکس نہیں دے رہے، اس معاملے میں ایف بی آر وہاں نہیں جائے گی، اس کا ایک نظام لارہے ہیں جس کے تحت تیسرے فریق کے ذریعے ان سے بات کی جائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.