غیر ملکی انجینئرز پر بڑی شرط عائد کر دی

سعودی حکومت نے پاکستانی اور دیگر غیر ملکی انجینئرز پر بڑی شرط عائد کر دی
سعودی انجینئرنگ کونسل سے رجسٹریشن اور ڈگریوں کی تصدیق کے بغیر اقامہ جاری ہو گا نہ آئندہ تجدید ہو سکے گی

ریاض(اخبار۔یکم مئی2021ء) سعودی عرب میں ہزاروں غیر ملکی انجینئرز ملازمتیں انجام دے رہے ہیں جن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی گنتی ہے۔ تاہم متعدد غیر ملکیوں کی انجینئرنگ ڈگریاں جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے جن میں پاکستانی انجینئرز بھی شامل ہیں۔سعودی انجینئرز کونسل کی جانب سے کچھ عرصہ پہلے بتایا گیا تھا کہ مملکت میں مقیم 16 ہزارانجینئرز ایسے تھے جن کی ڈگریاں مشکوک تھیں یا انہوں نے غیر مجاز اداروں سے حاصل کی تھیں۔اس انکشاف کے بعد سعودی انجینئرز کونسل نے تمام غیر ملکی انجینئرز پر رجسٹریشن کی پابندی عائد کر دی ہے۔ جب تک غیر ملکی انجینئرز سعودی انجینئرز کونسل سے اپنی رجسٹریشن نہیں کرواتے، انہیں اقامہ جاری نہیں کیا جائے یا اس کی تجدید نہیں ہو سکے گی۔آئندہ سے انجینئرز کے اقامے کو رجسٹریشن اور تصدیق کے عمل سے منسلک کر دیا گیا ہے۔سعودی انجینیئرز کونسل کے ترجمان صالح العمرکا مزید کہنا تھا کہ کونسل کی جانب سے ملکی اور غیر ملکی انجینئرز کی ڈگریوں کی تصدیق کے لیے ڈگری جاری کرنے والے ادارے سے براہِ راست رابطہ کیا جاتا ہے، ڈگری میں درج تمام کوائف کی تصدیق ہوتی ہے۔اس تصدیق کے عمل سے پتا چلا ہے کہ کسی بھی سعودی انجینئرز کے پاس جعلی ڈگری نہیں ہے۔ سعودیہ میں انجینئرز کی تمام شعبوں میں بھرتی کے لیے انہیں رجسٹریشن کروانی پڑے گی جس کے بعد ان کا پروفیشن ٹیسٹ لیا جائے گا۔ صرف کامیاب ہونے والے انجینئرز کو ہی کونسل کی رُکنیت دی جا رہی ہے۔ جو غیر ملکی پروفیشن ٹیسٹ پاس کریں گے ، اس کے بعد ہی انہیں ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا۔واضح رہے کہ انجینئرنگ کونسل نے بتایا ہے کہ مملکت میں مقیم 725 غیر ملکی انجینئرز کی ڈگریاں جعلی پائی گئیں جبکہ سال 2020ء کے دوران غیر مجاز جامعات کی طرف سے جاری کردہ 16 ہزار 887 اسناد ایسی تھیں جو مملکت کے مختلف شہروں میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو جاری کی گئیں، یہ جاری کردہ ڈگریاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ انجینیرز کونسل کے ترجمان انجینیرعبدالناصر العبداللطیف نے کہا کہ کہ کونسل کی شرائط پر پورا نہ اترنے والی تمام اسناد اور شرائط کے مطابق پانچ سالہ تجربہ نہ رکھنے والے انجینیرز کی ڈگریاں مسترد کردی گئیں۔ اس کے علاوہ انجینئرنگ کے پیشوں کے قانون کے حوالے سے 2 ہزار سے زائد خلاف وزیاں بھی ریکارڈ پر آئی ہیں۔بہت سے غیر ملکی کارکنان فرضی کالجز اور یونیورسٹیز کے نام پر سرٹیفکیٹ حاصل کر کے مختلف شہروں میں ملازمتیں کرتے پائے گئے۔ جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے والے افراد کو بھاری جرمانوں کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ جرمانوں کی زیادہ سے زیادہ حد ایک ملین ریال تک ہے۔ اس کے علاوہ دیگر انجینئرنگ قوانین کی خلاف وزری پر وارننگ لیٹر جاری کیا جا سکتا ہے۔ چھ ماہ تک پیشے کی معطلی ہو سکتی ہے یا پھر ایک لاکھ ریال تک کا جرمانہ اور لائسنس بھی منسوخ ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *