”آپ ﷺ کے بچپن کا واقعہ۔“

”آپ ﷺ کے بچپن کا واقعہ۔“
حلیمہ اپنے ننھے بچے کو گود میں لئے پریشان بیٹھی ہے بچہ مسلسل ر و ئ ے جارہا ہے حلیمہ ہر طرح سے اپنے بچے کو بہلا رہی تھی مگر وہ چپ نہیں ہورہا ہے ایسا معلوم ہورہا ہے کہ بچے کو کوئی تکلیف ہے قریب ہی حلیمہ کا شوہر حارث بھی پریشان نظر آرہا ہے حلیمہ ایک نیک اور رحم دل عورت تھی اور اس کا شوہر بھی ایک محنتی اور ایماندار شخص تھا یہ لوگ ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں میں رہتے تھے

مگر بہت غریب تھے محنت مزدور ی کر کے جو کچھ حاصل ہوتا صبر شکر کر کے گزارا کر لیتے۔کچھ عرصے بارش نہ ہونے کی وجہ سے درخت اور پودے سوکھ گئے تھے جانور بھی پانی سے محروم تھے ایسے میں نا انہیں خود کھانے کو مل رہا تھا اور نہ ہی ان کے جانوروں کو اس وقت بھی حلیمہ اور ان کے شوہر کے پریشان ہونے کی وجہ یہی تھی کہ ننھا عبداللہ بھوک کی وجہ سے مسلسل روئے جارہا تھا۔گھر میں جو اونٹی تھی بھوکی ہونے کی وجہ سے اس سے بھی ایک بوند دودھ حاصل نہیں ہوسکتا تھا حارث کو پریشان دیکھ کر حلیمہ نے کہا فکر نہ کرو صبح ہم لوگ شہر جائیں گے اور کچھ نہ کچھ بندوبست ہوہی جائے گا وہاں کی روایت کے مطابق دراصل گاؤں کی خواتین شہر جاتی۔
اور ایک ایک بچے کو گود لے لیتی اور اسے اپنے ساتھ گاؤں لے آتی تھیں تا کہ گاؤں کی خالص غذا اور تازہ آب و ہوا میں پرورش کے ساتھ بچہ اپنی زبان پر بھی مہارت حاصل کر لے اگلی صبح حلیمہ نے سفر کے لئے اپنا سامان لیا اور ننھے عبداللہ کو گود میں لے کر اپنی سرمئی رنگ کی گدھی پر سوار ہوگئی دس خواتین اور مردوں پر مشتمل یہ قافلہ شہر کی طرف روانہ ہوا حلیمہ کی گدھی بھوکی ہونے کی وجہ سے لاغر ہوگئی تھی اور اتنا آہستہ چل رہی تھی۔کہ قافلے والے کافی آگے نکل جاتے اور رک کر حلیمہ کے آنے کا انتظار کرتے حلیمہ اور حارث بہت خاموشی سے سفر کررہے تھے اسی طرح اس سفر کرتے ہوئے وہ لوگ شہر پہنچ گئے ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ کسی بڑے گھرانے کے بچے کو گود لے مگر ہوا یوں کہ پہلے پہنچ جانے کی وجہ سے ساتھی عورتوں نے اپنے مطلب کے گھر تلاش کر لئے حلیمہ کے پہنچتے پہنچے صرف ایک بچہ رہ گیا تھا وہ ایک یتیم بچہ تھا ۔جسے تمام خواتین نے نظر انداز کر دیا کیونکہ بچہ کا باپ وف ا ت پا چکا تھا بڑھے دادا عمر کے حصے میں جو زیادہ زندہ رہنے کی امید نہ رکھتے تھے جہاں تک والدہ کا تعلق تھا وہ بھی کچھ زیادہ مالدار نہ تھی اس بچے کی وراثت میں بھی کوئی بہت زیادہ مال و دولت نہ تھا غر ض ایک طرف غریب بچہ تھا اور دوسری طرف غریب ترین دائی تمام عورتوں کو بچے مل گئےاور روانگی کی تیاریاں ہونے لگی ایسے میں حلیمہ نے اپنے شوہر سے مشورہ کیا کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بچہ لیئے بغیر واپس جانا اچھا نہیں لگتا۔اس لئے میں اس یتیم بچے کو ہی لے آتی ہوں شوہر نے جواب دیا جیسا چاہو کرو۔کیا معلوم اللہ اس کے ذریعے ہی ہم پر رحمت نازل کر دے حلیمہ اس وقت واپس بچے کے دادا کے پاس گئی اور ان سے بچے کو مانگا دادا نے بچے کی والدہ کے پاس حلیمہ کو بھیج دیا حلیمہ نے جو بچے کو دیکھا تو وہ عام بچوں سے زیادہ خوبصورت تھا انہوں نے بچے کو گود میں لے کر اسے پیا رکیا اور گود میں لئے اسے اپنی سواری کے پاس آگئی اور واپسی کا سفر شروع کیا ابھی کچھ ہی دیر چلے تھے کہ ساتھی عورتوں کی آواز آئی کہ ذرا آہستہ چلو ہمارا بھی خیال کرو اے حلیمہ کیا یہ وہی سواری نہیں جس پر تم شہر آئی تھیں اور جسے ایک قدم چلنا بھی مشکل تھا یوں یہ لوگ اپنے علاقے بنی سعد میں واپس پہنچے حلیمہ کے شوہر نے جب اپنی اونٹنی کو دیکھا تو اس کے ت ھ ن دودھ سے بھرے ہیں انہوں نے اس کا دودھ دوہا اور اسے خود بھی پیا حلیمہ کو بھی پلایا اور حلیمہ کے بچے اور اس یتیم بچے کو بھی اس کے بعد تما م جانوروں کو چرنے کے لئے میدان میں چھوڑ دیا۔مگر بارش نہ ہونے کی وجہ سے ہر جگہ سوکھی پڑی تھی نہ ہی کہیں سبزہ تھا۔اور نہ ہی پانی کی ایک بوند جانوروں کو ٹھیک طرح چارہ نہ ملنے کی وجہ سے بے چارے لاغر ہورہے تھے اور ان میں سے کوئی بھی ایک قطرہ دودھ نہیں دے رہا تھا  مگر یہ کیا لوگوں نے حیرت سے دیکھا کہ حارث کی بکریاں بھی انہیں جانوروں کے ساتھ گئیں تھیں اور انہی میدانوں میں گئی تھی جہاں دوسرے جانور گئے تھے مگر دوسرے جانوروں کے برعکس ان کے ت ھ ن دودھ سے بھرے ہوئے تھے اور پیٹ چارے اور پانی سے ۔ یہ ایک دن نہیں ہوا ۔ دوسرے دن بھی یہی ہوا آخر تیسرے دن لوگ ایک دوسرے سے بول پڑے کہ تم اپنے جانوروں کو اسی جگہ کیوں نہیں چرانے لے جاتے جہاں حلیمہ اور حارث کے جانور جاتے ہیں۔مگر انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ چراگاہ کا کمال ہے یا کسی اور کی برکت اور یہ برکت کوئی ایک دن کی بات نہ تھی بلکہ روزانہ کا معمول تھا۔دودھ میں برکت اور رزق میں فراوانی بچہ عام بچوں کی نسبت اچھی صحت اور مضبوط جسم کا تھا اور نو ماہ میں بہت صاف گفتگو کرنے لگا تھا جب دوسال مکمل ہوئے تو بچے کو وہاں کے قاعدے کے مطابق اس کی والدہ کے پاس لے گئے اور خواہش ظاہر کی کہ یہ بچہ کچھ عرصہ اور ہمارے پاس رہے تا کہ شہر کی بیماریوں اور وباؤں سے محفوظ رہے دراصل دونوں میاں بیوی بچے سے محبت کرتے ہی تھی ساتھ ہی اپنی ساری خوشحالی کا سبب اس بچے کو سمجھتے تھے بچے کی والدہ پہلے تو راضی نہیں ہوئی مگر برابر اصرار کرنے پر راضی ہوہی گئی۔اور وہ دونون بچے کو واپس اپنے قبیلے بنی سعد میں لے آئے مگر کچھ ایسا واقعہ پیش آیا کہ حارث اور حلیمہ ایک دم گھبرا گئےاور فیصلہ کیا کہ بچے کو جتنی جلدی ممکن ہو اس کی والدہ کے پاس پہنچا دیا جائے تو حلیمہ نے بہانا کر کے بچے کو والدہ کو واپس کرنا چاہا لیکن انہیں اس بہانے سے تسلی نہ ہوئی اور دراصل وجہ حلیمہ کو بتانی ہی پڑی اور اب بچہ اپنی ماں کے پاس اور چچاؤں اور پھوپھیوں کے درمیان رہ رہا تھا کہ چند سال بعد والدہ کا سایہ اٹھ گیا۔اب دادا اس کا اور بھی زیادہ خیال رکھنے لگے اور ان کی محبت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی مگر دادا دن بدن کمزور ہورہے تھے اور ضعیفی بھی بڑھ گئی تھی اور یوں ایک دن دادا بھی اپنے لاڈلے پوتے کو چھوڑ کر اپنے رب کی طرف چلے گئے۔اب اس معصوم بچے کو اس کے چچا جان اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبت سے پرورش کرنے لگے چچا جان کی آمدنی بہت تھوڑی تھی وہ بکریاں پال کرگزر اوقات کرتے تھے ننھے بچے کو بکریوں کی نگرانی کے لئے ساتھ لے جاتے اور یوں ننھا بچہ نو سال کا ہوگیاایک دن سوداگروں کا ایک قافلہ شام جا رہا تھا تو چچا اور ان کا معصو بھتیجا بھی اس قافلے کے ساتھ چلے گئے راستے میں جہاں قافلے کے لوگ کچھ دیر آرام کیا کرتے تھے ٹھیک اسی جگہ ایک عیسائی عبادت گاہ تھی جہاں ایک عیسائی عبادت گاہ کا نگران جسے راہب کہتے ہیں عبادت کر رہا تھا جو ان دستاویزات کا محافظ بھی ہوتا تھا جو نسل در نسل اس عبادت گاہ میں چلی آرہی تھیں اور یہ راہب بھی ان دستاویزات اور ان میں بیان کی گئی باتوں سے بخوبی واقف تھا۔اب جو یہ قافلہ جس میں یہ دونوں چچا بھتیجا تھے عبادت گاہ سے ذرافاصلے پرآکر ٹھہرا تو راہب نے قافلے پر ایک نظر ڈالی اور ایک دم ہی چونک پڑا کیونکہ جب وہ دور قافلے کو آتا دیکھ رہا تھا تو اسے بادل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اس قافلے کے اوپر سایہ کیا ہوا نظر آیا تھا مگر اس نے محض ایک اتفاق سمجھا مگر اب جب کہ قافلہ بالکل رک چکا تھا اور مختلف درختوں کے سائے میں اس قافلے کے لوگ آرام کر رہے تھےتو ایسے ہی ایک درخت کے اوپر یہ بادل کاٹکڑا بھی ٹھہر گیا تھا اور یہ دیکھ کر راہب جو پہلے بڑی دلچسپی کو قافلے کو آتا دیکھ رہا تھا اب ایک دم ہی چونک گیا اور پھر اس عیسائی راہب کے تجسس نے مزید زور پکڑا کہ اس کے ذہن میں ایک تجویز بھی دے گیا راہب نے اس قافلے والوں کو کھانے کی دعوت دی۔اور کہلوایا کہ میری خواہش ہے کہ تم میں سے ہر ایک جوان بوڑھا غلام یا آزاد میرے یہاں کھانے کے لئے آئے سب قافلے والے دعوت میں شرکت کے لئے عیسائی راہب کے یہاں پہنچے جیسے جیسے لوگ عبادت گاہ کے اندر داخل ہورہے تھے۔عیسائی راہب ہر ایک چہرے کو غور سے دیکھتا لیکن جو بات وہ ان لوگوں میں تلاش کررہا تھا وہ اسے نہیں مل رہی تھی غالبا تمام لوگ نہیں آئے راہب کو خیال آیاکہ میں نے کہا تھا کہ کسی کو چھوڑ کر مت آنا راہب نے قافلے والوں سے کہا کہ ایساکوئی بھی نہیں ہے جسے ہم نے پیچھے چھوڑا ہو سوائے ایک لڑکے کے جو ہم میں سب سے چھوٹا ہے قافلے والوں نے جواب دیا اس کے ساتھ اس طرح کاسلوک نہ کرو۔اور اسے بلاؤ اس کا یہاں آنا ضروری ہے راہب نے قدرے نارضگی سے کہا کہ اس پر قافلے والوں کا شرمندگی کا احساس ہوا اور وہ لڑکے کودعوت پر بلالائے لڑکے کے چہرے پر ایک نظر ڈال کر ہی راہب کو اپنی تلاش مل گئی کھانے پینے کاسلسلہ شروع ہوا راہب لڑکے کے چہرے کا جائزہ لیتا رہا کھانے کاسلسلہ ختم ہوا تو راہب کم عمر مہمان کے پاس بیٹھ گیا اور مختلف سوالات کرتا رہا نوعمر لڑکا بڑے مناسب اور صاف گوئی سے جوابات دیتا رہا اور کسی قسم کی جھجھک محسوس نہ کی اس نے اس کی عبا کاندھے سے اٹھا کر پیٹھ دیکھنے کی خواہش کی اسے بچے کی باتوں سے یقین آگیا تھا مگر مطمئن ہونا چاہتا تھا۔بچے کی پیٹھ پر نشان دیکھنے کے بعد راہب نے اس کے چچا سے سوال کیا۔بچے سے تمہارا کیا رشتہ ہے چچا نے جو کہ اپنی ولاد سے بڑھ کر اس کی پرورش کی تھی اس لئے جواب دیا کہ یہ میرا بیٹا ہے یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے راہب نے پورے یقین سے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کا باپ زندہ ہو یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے چچا نے جواب دیا پھر اس کا باپ کہا ں گیا راہب نے ایک اور سوال چچا سے کیا وہ ان ت ق ا ل فرما گئے تھےجب اس کی پیدائش نہیں ہوئی تھی یہ بالکل سچ ہے راہب نے فورا تصدیق کی اپنے بھائی کے بیٹے کو فورا اپنے ملک لے جاؤ اور یہودیوں سے بچا کر رکھو میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں ۔کہ اگر وہ اسے دیکھ لیں اور جو کچھ میرے علم میں ہے وہ بھی جان جائیں تو اس کو نقصا ن پہنچ سکتا ہے تمہارے بھائی کے اس بیٹے کے لئے قدرت نے اپنے خزانے میں بڑی عظمتیں سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں راہب نے اپنی تعلیمات کے مطابق صاف صاف چچا جان کو ہر بات بتائی اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اس لڑکے کو اللہ نے اپنے آخری نبی ﷺ کی حیثیت سے منتخب کیا جی ہاں محمد ﷺ ہمارے پیارے نبی ﷺ جنہوں نے اپنی تمام زندگی اس فرض کو انجام دینے میں لگا دی جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں بھیجا تھا ہماری دعا ہے اللہ پاک ہمارے نبی محمد ﷺ پر ہماری طرف سے لاکھوں کروڑوں درود و سلام نازل فرمائے ۔آمین

 

Sharing is caring!

Comments are closed.