پاکستان اور سعودیہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات

”پاکستان اور سعودیہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے عالمی طاقتیں پریشان ہوگئیں“
پاکستان میں تعینات سابق سعودی سفیر عواض العسیری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سعودی امداد کی بندش کا بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنے والے ناکام ہو گئے ہیں

ریاض( ۔10مئی2021ء) پاکستان میں سعودی حکومت کی جانب سے ماضی میں تعینات سعودی سفیر ڈاکٹر علی عواض العسیری نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ پاکستان اور سعودیہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے عالمی قوتیں پریشان ہو گئی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ کے دوران سازشی عناصر یہ پراپیگنڈہ کر رہے تھے کہ سعودیہ نے پاکستان کے لیے مالی امداد بند کر دی ہے، تاہم وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران جو گرم جوشی دیکھنے میں آئی، اس کے بعد اب یہ سب زہریلا پراپیگنڈہ دم توڑ گیا ہے۔ اُردو نیوز کے مطابق ڈاکٹر العسیری نے عرب نیوز کے لیے ایک خصوصی کالم میں لکھا ہے کہ میڈیا عمران خان کے اس دورے کو پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دے رہا ہے، خاص طور پر معیشت، تجارت اور ماحولیاتی تعاون کے تناظر میں دونوں برادر ممالک کا فائدہ بڑھتا ہے کیونکہ ان کی تاریخی دوستی کو گذشتہ سال بدقسمتی سے خلل کا سامنا رہا ہے۔ خوش قسمتی سے دونوں اطراف کی قیادت کافی سمجھدار تھی کہ انہوں نے اس چیلنج کو دیکھا اور سعودی پاکستان تعلقات کو دوبارہ پٹری پر واپس لے آئیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس سمجھداری کی جڑیں عوام سے عوام کے تعلقات میں ہیں جو بالآخر انہیں عارضی خرابیوں پر قابو پانے اور باہمی تشویش اور دلچسپی کے امور پر تعاون کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس بار بھی کچھ مختلف نہیں ہوا۔ بدقسمتی سے بین الاقوامی قوتیں سعودی عرب کی مسلم دنیا میں غیر معمولی حیثیت اور سعودی-پاکستان کے تاریخی اتحاد سے پریشان ہیں۔ اس حقیقت کو ہضم نہیں کر سکیں کہ دونوں برادر ممالک اپنے تعلقات کو ایک مختلف سطح پر لے جا رہے ہیں، جہاں ان کے جغرافیائی و معاشی مفادات مستقبل میں ایک ہو سکتے ہیں۔جس کی وجہ سے اختلافات پیدا کرنے والی قوتوں نے فاصلے بڑھانے کی چالیں چلی تھیں جو ناکام ہوئیں۔ یہاں تک کہ کشمیر پر او آئی سی کے کردار سے متعلق جھوٹا بیانیہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ آخر کار پاکستان کے لیے سعودی معاشی مدد کی مایوس کن تصویر کشی وقت کے امتحان میں ناکام ہوگئی۔خوش قسمتی سے دونوں ممالک کے پاس رابطوں کے باضابطہ اور غیر رسمی چینل موجود ہیں تاکہ کسی بھی طرح کی غلط فہمی یا جان بوجھ کر غلط معلومات کے ذریعے تعلقات کو متاثر کرنے کی کوششوں پر قابو پایا جا سکے۔ان کا رشتہ اٹوٹ ہے کیونکہ دونوں کے عوام کی مرضی پر قائم ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.