پابندی کا فیصلہ تاحال قائم ہے

کویت آئل کمپنی KOC نے پھنسے ہوئے 4000 سے زائد ملازمین کی واپسی کا مطالبہ کر دیا
کویت اردو نیوز16 مئی:آئل ڈرلنگ کمپنیوں میں کارکنان کی قلت کی وجہ سے کویت آئل کمپنی KOC نے دوسرے ممالک میں پھنسے ہوئے 4000 سے زائد کارکنوں کی ’واپسی‘ کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق کویت آئل کمپنی KOC کے سی ای او عماد السلطان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) یوسف الفواز سے درخواست کی ہے کہ کویت آئل کمپنی میں کام کرنے والے 4،054 ایسے ملازمین کو کویت واپس آنے کی اجازت دی جائے جو کنٹریکٹنگ کمپنیوں کے لئے کام کر رہے ہیں اور کوویڈ 19 وبائی بیماری کے پھیلنے اور وزارت صحت کی جاری کردہ ہدایات کے پیش نظر ملک سے باہر پھنسے ہوئے ہیں۔ السلطان نے درخواست میں کہا کہ “کام کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اور اس بات سے بچنے کے لئے کہ کمپنی کے اہم کام متاثر نہ ہوں براہ کرم 4،054 ملازمین کو براہ راست کویت میں داخل ہونے دیا جائے اور انہیں اس فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے کہ کالعدم ممالک سے مزدوروں کے داخلے کو روکا جائے چونکہ کمپنی وزارت صحت کے ذریعہ متعین کردہ تمام شرائط اور معیارات کا اطلاق کرنے کی پابند ہے اور اس بات کی نشاندہی کرے گی کہ “متعلقہ کارکن کے پاس مناسب رہائشی اجازت نامہ (اقامہ) ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ وبائی مرض کی روشنی میں ملک غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے جس کی وجہ سے KOC کو آئل ڈرلنگ کرنے والی کاروائیوں میں کارکنوں کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ڈرلنگ کرنے والی کمپنیوں کو ڈرلنگ کاروائیوں کی نوعیت کے حساب سے وقتا فوقتا (تقریبا ہر ماہ) موجودہ ملازمین کی جگہ متبادل ملازمین تعینات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو تقریبا ہر ماہ ملک سے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کابینہ کے فیصلے سے ڈرلنگ کارکنوں کو الگ کرنے کا مطالبہ کیا جس میں 04 فروری کو جاری ہونے والے ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ایوی ایشن کے سرکلر نمبر 7/2021 کے مطابق غیر کویتی شہریوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکنا بھی شامل ہے۔ دوسری طرف السیاسیہ نے وزارت تعلیم کے باخبر ذرائع سے معلوم کیا کہ وزارت اپنے پھنسے ہوئے اساتذہ کے ناموں کی فہرست تیار کررہی ہے جس کے بعد وزرائے مجلس کی کونسل میں کورونا ہنگامی صورتحال کے لئے سپریم کمیٹی کی منظوری حاصل کرنے کے بعد وزیر تعلیم ڈاکٹر علی المضف اپنے اپنے ممالک میں پھنسے ہوئے تمام اساتذہ کی وطن واپسی کے لئے درخواست کریں گے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.