مسافروں کے پاکستان آنے کا انکشاف

جعلی کورونا رپورٹس پر خلیجی ممالک سے مسافروں کے پاکستان آنے کا انکشاف
خلیجی ممالک سے جعلی کورونا رپورٹس پر 31 مسافرپشاور اور 11 کراچی پہنچے جب کہ پشاور قرنطینہ سینٹر سے 28 اورکراچی سے 6 مسافرفرار ہوگئے۔ رپورٹ

اسلام آباد ( 11 مئی 2021ء ) جعلی کورونا رپورٹس پر خلیجی ممالک سے مسافروں کے پاکستان آنے کا انکشاف ہوگیا۔ میڈیا رپورٹ میں سول ایوی ایشن ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ خلیجی ممالک سے جعلی رپورٹس پر 31 مسافرپشاور اور 11 کراچی پہنچے جب کہ پشاور قرنطینہ سینٹر سے 28 اورکراچی سے 6 مسافرفرار ہوگئے ، جعلی ٹیسٹ رپورٹ والوں نے ناصرف ساتھ سفرکرنے والے دیگر مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈالا بلکہ اس قسم کے واقعات کی وجہ سے سے کورونا وباء پر قابو پانے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔سول ایو ی ایشن ذرائع کے مطابق پاکستان آنے والے مسافرتصدیق شدہ لیبارٹریز سے ہی کورونا ٹیسٹ کرائیں ، درست کیو آر کوڈ کے بغیر منفی رپورٹ قبول نہیں کی جائے گی جب کہ ٹریک ایپ میں رجسٹرڈ نہ ہونے والے مسافر پاکستان سفرکرنے کے اہل نہیں ہیں ، تمام ائیرلائنز ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرائیں ، ہدایات پر عمل نہ ہوا تومتعلقہ ائیرلائنز پر مالی جرمانے سمیت دیگر سزائیں دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے بھارت میں تباہی مچانے والی کورونا وائرس کی قسم کو دنیا بھر کیلئے خطرہ قرار دے دیا ، عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھارت میں پھیلنے والے کورونا وائرس کو انتہائی خطرناک قرار دے کر عالمی برادری کو خبردار کیا گیا ہے ، کورونا وائرس سے متعلق ڈبلیو ایچ او کی ٹیکنیکل لیڈ ماریا وین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارت میں تباہی مچانے والی کورونا وائرس کی قسم پوری دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے، وائرس کی یہ قسم اب تک کئی ممالک میں پھیل چکی ہے۔ ڈبلیو ایچ او حکام کے مطابق بھارت میں تباہی مچانے والی کورونا کی اس قسم کی اکتوبر 2020 میں ہی نشاندہی کر دی گئی تھی ، اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن کا کہنا ہے کہ بھارت میں گردش کرنے والی کورونا وائرس کی نئی قسم زیادہ متعدی اور ممکنہ طور پر ویکسین سے ملنے والے تحفظ کو کم کرسکتی ہے، جس کے باعث وہاں کووڈ کی وبا بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.