عدلیہ کے ساتھ سیاسی کھلواڑ منظور نہیں.

وزیراعظم آزادکشمیرعدالتوں میں سیاسی بندربانٹ کےخواہش مند،عدلیہ کے ساتھ سیاسی کھلواڑ منظور نہیں. سردار عتیق خان

اسلام آباد: قائد مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ مسلم کانفرنس عدلیہ کے وقار اور احترام میں اضافہ کی خواہشمند ہے۔ چیف جسٹس آف آزاد کشمیر کی مستقلی اور سپریم کورٹ میں جج صاحبان کا تقرر خوش آئند ہے۔ نواز لیگ آزاد کشمیر کے ہر ادارے کو تباہ و برباد کرنا چاہتی ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر اعلی عدالتی اداروں میں سیاسی بندر بانٹ کے خواہش مند ہیں۔ پندرھویں ترمیم کا بنیادی مقصد قائمقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بے آبرو کر کے فارغ کرنا تھا۔ آخری وزیراعظم ہونے کی فاروق حیدر کی خواہش آزاد کشمیر کو برباد کرنے کی غماز ہے۔ نواز لیگ آزاد کشمیر کو جاتی امرا جو پاکستان اور کشمیر دشمن پالیسیوں کے علاوہ کشمیریوں کے قا -تل نریندر مودی کا بھی پسندیدہ سیاسی مرکز ہے کے ایجنڈے کے تحت کمزور کرنا چاہتی ہے۔ نواز لیگی حکومت آزاد کشمیر کے اداروں اور عدلیہ کو جماعتی اماجگاہ بنانا چاہتی ہے۔ مسلم کانفرنس نے ہمیشہ اداروں کو وقار اور استحکام بخشا ہے۔ مسلم کانفرنس کی موجودگی میں عدلیہ کے ساتھ سیاسی کھلواڑ نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار قائد مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے آزاد کشمیر کی عدلیہ میں جج صاحبان کے تقرر اور تعیناتی کے لئے وزیر اعظم آزاد کشمیر اور ان کے بعض ساتھیوں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عدلیہ کے تقرر اور تعیناتی میں نواز لیگی حکومت کے عزائم کی بجائے میرٹ، اہلیت اور قابلیت کا خیال رکھا جائے۔ قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے اور ہم حکومت پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کے ممنون ہیں جن کی مداخلت کی بدولت پندرھویں ترمیم کا راستہ روکا گیا۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر پندرھویں ترمیم کے ذریعے آزاد کشمیر کی اعلی عدلیہ کو انجمن آڑھتیاں میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ مسلم کانفرنس اعلی عدلیہ کے وقار اور احترام پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ قائد مسلم کانفرنس نے کہا کہ چیئرمین کشمیر کونسل کو چاہیے کہ عدلیہ میں باقی ماندہ جج صاحبان کی تقرریوں میں قبائل، قانون، آئین اور ماضی کی روایات کا پورا پورا خیال رکھیں ایسا نہ ہو کہ انصاف اور میرٹ کی پامالی پر عدلیہ میں ہونے والی ہر تقرری کے خلاف وکلاء صاحبان کو درجنوں رٹیں دائر کر کے ایک نیا عدالتی تنازعہ کھڑا کرنے کا موقع ملے۔

 

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *