جامنی قالین کیوں بچھایا گیا؟

اماراتی ولی عہد کے استقبال کے لیے سعودیہ میں ریڈ کارپٹ کی بجائے جامنی قالین کیوں بچھایا گیا؟
وی آئی پی مہمانوں کے لیے ریڈ کارپٹ بچھانے کے رواج میں تبدیلی پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

ابوظبی(6مئی2021ء) دُنیا بھر میں کسی بھی غیر ملکی مہمان ِ خصوصی کا استقبال کرنے کے لیے سُرخ قالین بچھائے جاتے ہیں، جنہیں ریڈ کارپٹ استقبال بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قدیم رواج یونانی سلطنت کے دور سے رائج ہے۔ جب یونانی شہنشاہ ایگامیمنون کی کئی سال بعد مملکت واپسی پراس کی ملکی نے کلیمے نسٹرا نے اس کا سُرخ قالین بچھا کر شاندار استقبال کیا تھا۔مہمانوں کی عزت افزائی کا یہ رواج ایسا مقبول ہواکہ جدید دُنیا میں بھی غیر ملکی سربراہان اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کی آمد پر ان کا ریڈ کارپٹ بچھا کر استقبال کیا جاتا ہے۔ تاہم گزشتہ روز اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی جب ابوظبی کے ولی عہد اور یو اے ای کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید سعودی عرب کے سرکاری دورے پر جدہ پہنچے تو ان کا استقبال روایتی ریڈ کارپٹ کی بجائے جامنی رنگ کے قالین بچھا کر کیا گیا۔ابوظبی کے ولی عہد کے استقبال کے لیے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان موقع پر موجود تھے۔ سُرخ کی بجائے جامنی رنگ کا قالین بچھانے پر سوشل میڈیا پر بہت زیادہ بحث چھڑ گئی ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عام طور پر روایتی پروٹوکول میں سُرخ قالین ہی بچھائے جاتے ہیں۔ تاہم جامنی رنگ کا سعودی ثقافت سے گہرا تعلق ہے۔ بارش کے بعد سعودی صحرائی علاقوں میں جنگلی لیونڈر کے پھول کثرت سے کھل جاتے ہیں، جس سے صحرا میں رونق ہو جاتی ہے، جوتازگی اور ہریالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.