ایمریٹس ایئر کی مشکلات میں کمی

ایمریٹس ایئر کی مشکلات میں کمی نہ آنے کے بعد اہم فیصلہ ہو گیا
ایمریٹس نے مسافروں کی کمی کے باعث 16 مسافر طیاروں کوکارگو جہازوں میں تبدیل کر دیا

دُبئی(۔10مئی2021ء) کورونا کی وبا نے ایمریٹس ایئر لائن کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے، یہاں تک کہ دُبئی کی اس سرکاری فضائی کمپنی کو حکومت سے بیل آؤٹ پیکیج بھی لینا پڑا ہے۔ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق 2023ء سے پہلے ایمریٹس کورونا وبا سے پہلے والی پوزیشن پر بمشکل پہنچ سکے گی۔ کیونکہ ابھی دُنیا کوکورونا سے نمٹنے میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے باعث سفری پابندیاں عائد ہونے سے ایمریٹس ایئر کی ہزاروں پروازیں متاثر ہوئی تھیں۔ ایمریٹس کو سال 2020ء کے پہلے چھ ماہ میں 12.6 ارب درہم (3.4 ارب ڈالر) کا بہت بڑا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ چونکہ ایمریٹس دُبئی کی سرکاری ایئر لائن ہے، اس وجہ سے حکومت نے اس ایئر لائن کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد دی تھی۔تاہم رواں سال بھی محدود پروازوں کی وجہ سے ایمریٹس کے فلائٹ آپریشنز پوری طرح بحال نہیں ہو سکے ہیں۔ جس کی وجہ سے بحران کا شکاراماراتی ایئر لائن نے ایک اہم فیصلے کے تحت 16 مسافر بردا طیاروں کو مال بردار یعنی کارگو جہازوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ امریکی بلومبرگ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں ایمریٹس کے ڈویژنل سینیئر نائب صدر نبیل سلطان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے 16 مسافر طیاروں کو مسافروں کی کمی کے باعث کارگو طیاروں میں تبدیل کر چکے ہیں۔ جبکہ باقی طیاروں کے مین کیبن کو بھی پی پی ایز اور دیگرطبی ساز و سامان کی ترسیل کے لیے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اس وقت ایئر لائن کو طلب اور رسد کے قاعدے کے حساب سے مسافروں کی کمی کا سامنا ہے جبکہ دُنیا بھر میں کورونا وبا کے باعث طبی ساز و سامان کی ترسیل کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے یہ اقدام اُٹھایا گیا ہے۔ دوسری جانب ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ 2023ء سے پہلے ایمریٹس کورونا وبا سے پہلے والی پوزیشن پر بمشکل پہنچ سکے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.