ہاتھوں کو بھی ہم روکیں گے

شامی سرحد کی طرح مسجدالاقصی کی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھوں کو بھی ہم روکیں گے
اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش رہنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک دن ان پر بھی وقت آ سکتا ہے۔ترک صدر طیب اردگان کا بیان

استنبول ( 16 مئی ۔2021ء) ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی ظلم و جبر کے خلاف اگر پوری دنیا خاموش بھی ہو جائے تب بھی ہم اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔ترک صدر نے برسر اقتدار انصاف و ترقی پارٹی کے نمائندوں سے بذریعہ ویڈیو کانفرنس ملاقات میں مزید کہا کہ شامی سرحد کے قریب جس طرح سے ہم نے د-ہشت گردوں کا رستہ روکا، اسی طرح مسجدالاقصی کی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھوں کو ہم روکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بعض عالمی رہنماؤں سے رابطہ کیا جنہوں نے ہمارے موقف کی مکمل تائید کی ہے۔اسرائیل کے فلسطینی شہر اور القدس میں برپا مظالم کے خلاف آواز اٹھانا ناموس انسانیت کا فرض ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش رہنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک دن ان پر بھی وقت آ سکتا ہے۔طیب اردگان نے مزید کہا کہ القدس مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسیحوں اور یہودیوں کے لیے بھی مقدس مقام ہے جہاں اسرائیل نامی د-ہشت گرد ریاست نے انسانیت سوزی کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں ،میں اقوام عالم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بلا امتیاز اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہو جائیں۔دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غزہ کی محصور پٹی کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت جاں بحق افراد کی تعداد 132 ہوچکی ہے غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی اور عرب سفارتکاروں کی جانب سے کشیدگی کے خاتمے کے مطالبات کے باوجود اسرائیلی جنگی جہازوں کے غزہ پر فضائی حملے جاری ہیں. فلسطین کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ پر فضائی حملے میں 4 افراد جاں بحق ہوئےفلسطین کے طبی حکام کا کہنا تھا کہ غزہ میں پیر سے اب تک 32 بچوں اور 21 خواتین سمیت 132 افراد جاں بحق اور 950 زخمی ہو چکے ہیں دوسری جانب حماس کا اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں راکٹ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اسرائیل کے دو اہم جنوبی شہروں میں غزہ سے راکٹ حملوں کے انتباہ کے لیے سائرن بجائے گئے.

Sharing is caring!

Comments are closed.