چین کو برآمدات میں بڑا اضافہ

عمران خان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، پاکستان کی چین کو برآمدات میں بڑا اضافہ
برآمدات کا حجم بڑھ کر 1.95 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، آئندہ برسوں میں برآمدات میں مزید اضافے کا امکان

اسلام آباد ( 16 مئی2021ء) وزیراعظم عمران خان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، پاکستان کی چین کو برآمدات میں 31 فیصد کا بڑا اضافہ، درآمدات کا حجم بڑھ کر 1.95 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، آئندہ برسوں میں برآمدات میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کر دیا گیا- تفصیلات کے مطابق مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ پاکستان چین ایف ٹی اے کا سیکنڈ فیز یکم جنوری 2020 کو آپریشنل ہو ا، ز*مالی سال 2020-21 میں جولائی سے اپریل کے دوران چین کو ہماری ایکسپورٹ میں 31 فیصد اضافہ ہوا۔اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ چین کو ہماری ایکسپورٹ گزشتہ مالی سال میں 1.49 ارب ڈالر سے بڑھ کررواں مالی سال اب تک1.95 ارب ڈالر ہو گئی، اس دورانیے میں ایکسپورٹ میں 459 ملین ڈالر اضافہ ہوا،ایکسپورٹ میں اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا ایف ٹی اے ٹو اچھا کام کر رہا ہیجسکا کریڈٹ ایکسپورٹرز کو جاتاہے،میں ایکسپورٹرز سے کہوں گا کہ ایف ٹی اے ٹو میں ٹیرف سے فائدہ اٹھائیں۔گورنرسٹیٹ بینک رضا باقر نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ ہماری معیشت آنیوالے برسوں میں تیز رفتاربڑھوتری کی استعداد رکھتی ہے، سٹیٹ بینک نے جاری مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح 3 فیصد اورآنیوالے مالی سال میں 4 فیصد ہونے کی پیشن گوئی کی ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ پاکستان آنیوالے دوبرسوں میں 6 فیصد بڑھوتری کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کوویڈ 19 کی وبا میں تیزی آنے پر 6 ارب ڈالرمالیت کے قرضہ کیلئے سخت شرائط پردوبارہ مذاکرات پرآمادگی کااظہارکیاہے، وفاقی حکومت آئندہ مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 900 ارب روپے مختص کرے گی جس سے ترقی اورروزگارکے نئے مواقع پیداہوں گے۔اخبار کے مطابق”آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح 4 فیصدتک رہنے کی پیشن گوئی کی ہے، گزشتہ مالی سال کے منفی 0.4 فیصدکے مقابلہ میں جاری مالی سال میں معیشت کی بڑھوتری کی شرح 1.5 فیصدسے زیادہ ہوگی“۔گورنرسٹیٹ بینک کے مطابق کوویڈ 19 سے پیداہونے والی مشکل صورتحال کے باوجود ہمارے اقتصادی اشارئے قوی ہے جوملکی معیشت کیلئے نیک شگون ہے۔حکومت نے کوویڈ 19 کے بحران کے اثرات کوکم کرنے کیلئے 2000 ارب روپے سے زیادہ معاونت کویقینی بنایاہے، کاروبارکوکیش کے مسائل سے نمٹنے کیلئے ضروری معاونت فراہم کی گئی ہے جبکہ معاشرے کے معاشی طورپرکمزورطبقات کو نچلی سطح پرنقدامداد اورفنڈز کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عارضی اقتصادی معاونت سہولت کے تحت نجی شعبہ میں کو کیش کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے 450 ارب روپے کے آسان قرضہ جات دئیے گئے، اسی طرح نجی شعبہ کے ملازمین کے روزگارکے تحفظ کیلئے مزید240 ارب روپے کے قرضہ جات کی فراہمی عمل میں لائی گئی، اسی طرح سٹیٹ بینک نے مشکلات کے شکارکاروبار پر قرضوں کوموخرکرانے اورمارک اپ چارجز کے ضمن میں بینکوں کو900 ارب روپے کی فراہمی کی پیشکش کی ہے، ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کوویڈ 19 کی عالمگیروبا سے پیداہونے والے بحران سے جلد باہرآنے میں کامیاب ہوئی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.