لمبے عرصے تک جاری رکھنے کا اعلان

اسرائیل کا جنگ کو لمبے عرصے تک جاری رکھنے کا اعلان
دنیا بھر فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے‘ اسرائیل کے مختلف شہروں میں بھی ہنگامے انتہا پسند یہودی جماعتوں کے عرب شہریوں پر حملے

تل ابیب/لندن(-ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 16 مئی ۔2021ء) اسرائیلی آرمی چیف نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے محاذ پر کئی روز تک لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف اسرائیل اور حماس دونوں ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں دونوں نے اب تک کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اپیلوں پرعمل درآمد نہیں کیا.قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ بھرپور طاقت کے ساتھ راکٹ حملوں کا جواب دیتے رہیں گے ان کا کہنا تھا کہ بمباری اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کی ضرورت ہو گی تاہم انہوں نے زور دیا کہ شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اس محاذ آرائی کے ذمہ دار ہم نہیں بلکہ ہم پر حملہ کرنے والی جماعت ہے.آرمی چیف کے بیان سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا کہ گذشتہ چند ایام کے دوران غزہ کی پٹی پر کی گئی بمباری میں حماس کو بھاری قیمت چکانے پرمجبور کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اسرائیل کے پاس غزہ کی پٹی پر مزید حملوں کے لیے منصوبے موجود ہیں عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اسرائیل زمینی حملوں کے لیے تیاریاں کررہا ہے اور کسی بھی وقت صہیونی افواج بھاری جنگی سازوسامان کے ساتھ غزہ میں داخل ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی سرحد پر پہنچایا جاچکا ہے.اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں شہریوں کی ہلاکت اور بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر پر حملے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے انتونیو گوتریس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے الشاتی کیمپ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے دس افراد کی ہلاکت سمیت شہری ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سیکرٹری جنرل نے شدید افسوس کا اظہار کیا ہے.بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتونیو گوتریس غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے بہت پریشان ہوئے ہیں جس میں متعدد بین الاقوامی میڈیا کے دفتروں کے علاوہ رہائشی اپارٹمنٹس بھی موجود تھے. بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل نے تمام فریقوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہریوں اور میڈیا کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ہر قیمت پر اس سے گریز کرنا چاہیے ادھر اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں لندن میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے ہائیڈ پارک سے گزرتے ہوئے اسرائیلی سفارت خانے کی جانب مارچ کیا برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق تھوڑی تھوڑی دیر بعد فلسطینی پرچم کی مناسبت سے سرخ یا سبز رنگ کا دھواں چھوڑا جاتا اور مظاہرین نعرے بازی کرتے.

Sharing is caring!

Comments are closed.