لاکھوں پاکستانیوں کا بھلا ہو گیا

سعودیہ میں کفالت نظام کے خاتمے کے بعدلاکھوں پاکستانیوں کا بھلا ہو گیا
صرف 2 ماہ کے اندر 60 ہزار سے زائد غیر ملکی کارکنان نے ملازمتوں کی تبدیلی کروا لی ہے

ریاض(11 مئی2021ء) سعودی مملکت میں کئی دہائیوں سے کفالت کا نظام رائج تھا۔ اس نظام میں غیر ملکی کارکن سعودی کفیل کے رحم و کرم پر ہوتے تھے جس کی وجہ سے ان کا استحصال بہت زیادہ بڑھ جاتا تھا۔ لاکھوں کارکنان کو اپنے کفیلوں سے شکایت ہوتی تھی کہ وہ ان سے بے جا ڈیوٹی کرواتے ہیں، سختی سے کام لیتے ہیں اور تنخواہوں کی ادائیگی بھی وقت پر نہیں کرتے ہیں۔تاہم نئے قانون محنت کے لاگو ہونے کے بعد صرف دو ماہ کے اندر ہی غیر ملکی کارکنان کو سُکھ کا سانس نصیب ہو گیا ہے جن میں ہزاروں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کا کہنا ہے کہ نئے قانون محنت کے تحت اب تک 60 ہزار سے زائد کارکنان نے ملازمت کی تبدیلی کی شق سے فائدہ اُٹھا لیا ہے۔اُردو نیوز کے مطابق وزارت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ملازمت کی تبدیلی کی سہولت کو استعمال کرتے ہوئے گذشتہ 56 دنوں میں 60 ہزار سے زائد کارکن اس سے مستفید ہوچکے ہیں جبکہ اس شق کے تحت یومیہ بنیادوں پر درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ نئے قانون میں دی جانے والی دیگر سہولتیں، جن میں کارکن کا از خود خروج وعودہ یا فائنل ایگزٹ حاصل کرنے کا اختیار بھی شامل ہے تاہم سب سے زیادہ نوکریوں کی تبدیلی کی سروس استعمال کی جا رہی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ نئے قانون کی رو سے بہتر خدمات کے لیے لازمی ہے کہ آ اور اجیر ورک ایگریمنٹ کی ڈیجیٹل تصدیق کرائیں تاکہ فریقین کے حقوق کا تحفظ یقینی ہو سکے۔ مملکت میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران ملازمت کے 50 لاکھ معاہدوں کی ڈیجیٹل تصدیق کی جا چکی ہے۔ واضح رہے مملکت میں غیر ملکی کارکنوں کی سہولت اور کام کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے رواں برس 14 مارچ سے مملکت کی تاریخ میں قانون محنت میں پہلی بار غیر معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ان تبدیلیوں کے تحت کارکن کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی خدمات کسی دوسری کمپنی یا ادارے میں منتقل کرسکے تاہم اس کے لیے قواعد بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.