دو شخصوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ مسکرا تا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا : دو شخصوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ مسکرا تا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سبحانہ و تعالی ایسے دو آدمیوں کو دیکھ کر مسکراتا ہے جن میں سے

ایک نے دوسرے کو ق-تل کیا ہو گا (پھر بھی) وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے۔ اُن میں سے ایک تو اللہ کی راہ میں لڑکر شہید ہوا تھا پھر اللہ نے قا-تل کو توبہ کی توفیق بخشی اور وہ مسلمان ہوگیا اور پھر شہید ہو گیا۔ اللہ تعالی دو ایسے آدمیوں کو دیکھ کر مسکراتا ہے جو دونوں ہی جنت میں جائیں گے۔ بایں طور کہ مسلمان اللہ کے دین کی سربلندی میں لڑ رہا ہو گا کہ ایک کافر اسے ق-تل کر دے گا اور وہ جنت میں چلا جائے گا۔ پھر اللہ قا-تل کو توبہ کی توفیق دے گا اور وہ مسلمان ہو جائے گا۔اور پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہوا وہ بھی شہید ہو جائے گا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اتنے میں ایک دھماکہ کی آواز آئی رسول اللہﷺ نے فر ما یا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ایک پتھر ہے جو جہ نم میں پھینکا گیا تھا ستر برس پہلے اب اس کی تہ میں پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا: انسان کبیرہ گ ن ا ہ وں سے اجتناب کر رہا ہو تو پانچ نمازیں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک درمیان کے عرصے میں ہونے والے گ ن ا ہ وں کو مٹانے کا سبب ہے۔دو شخصوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ مسکراتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا ایک وہ ہے کہ جو سرد رات میں اپنے بستر اور لحاف سے اٹھ کر وضو کر تا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پو چھتا ہے میرے بندے کو یہ تکلیف برداشت کر نے پر کس چیز نے ابھارا ہے۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ تیری رحمت کا امید وار ہے اور تیرے ع ز اب سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فر ما تا ہے گواہ ہو جاؤ اس کی امید یں پوری کر دی ہیں۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.