ویزے پر سعودیہ جا سکتے ہیں

کیا ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی کارکن نئے ویزے پر سعودیہ جا سکتے ہیں؟
نئے سعودی قانون کے مطابق ڈی پورٹ ہونے والے ورک ویزے پر سعودیہ نہیں آ سکتے، البتہ عمرہ و حج کے لیے آنے کی اجازت ہو گی

ریاض( 28 اپریل2021ء) سعودی حکومت کی جانب سے نیا لیبر قانون نافذ کر دیا گیا ہے، جس سے لاکھوں غیر ملکی کارکنان کو کفالت نظام کے ظالمانہ شکنجے سے نجات مل گئی ہے ، اس لیے اس نئے قانون سے غیر ملکی بہت خوش ہیں۔ تاہم اس نئے قانون میں غیر ملکی کارکنان کے لیے کچھ سختیاں بھی کر دی گئی ہیں۔ جیسا کہ ایک پاکستانی شہری نے اُردو نیوز سے سوال کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں گھریلو کارکن کے طور پر ملازمت کرتا رہا ہے، تاہم کسی خلاف ورزی کی وجہ سے اسے تین سال پہلے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا، کیا اب کوئی بھی کمپنی یا کمپنی اسے دوسرے ویزے پر سعودی عرب بُلا سکتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ جوازات کا کہنا ہے کہ پرانے قانون کے تحت اگر کسی کو اقامہ یا محنت قانون کے تحت ڈی پورٹ کیا جاتا تھا تو اس پر چند برس کے لیے مملکت داخلے پر پابندی عائد ہوتی تھی۔ اس مُدت کے بعد وہ سعودی عرب ملازمت کے لیے آ سکتا تھا۔ تاہم اب نئے قانون محنت میں ڈی پورٹ ہونے والوں کے سعودی عرب دوبارہ واپسی کے راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ اس نئے قانون کے تحت جس غیر ملکی کارکن کوشعبہ ترحیل کے ذریعے ڈی پورٹ کیا جاتا ہے وہ صرف حج و عمرہ ویزے پر ہی آسکتا ہے۔ ورک ویزے کے لیے نہیں۔ اب ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو صرف حج یا عمرہ کی ادائیگی کیلیے ہی مملکت آنے کی اجازت ہوگی۔چاہے ماضی میں عائد ہونے والی پابندی کی یہ مُدت نئے قانون سے پہلے ختم ہو بھی گئی ہو، پھر بھی ورک ویزے پر سعودیہ جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ایک اور شخص نے سوال کیا ہے کہ اس کا اقامہ ایکسپائرڈہے جبکہ کفیل نے ہروب بھی فائل کردیا۔ وطن واپس کیسے جاسکتا ہوں؟ اس سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ آپ کو وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود آبادی کے شعبہ ’کارکنوں کے اختلافات ‘ سے رجوع کرنا چاہیے جہاں سے معاملے کا کوئی حل نکالا جائے گا بعدازاں شعبہ ترحیل (ڈیپوٹیشن سینٹر) سے رجوع کریں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *