ریگولیٹری اتھارٹی کا اہم قدم

مہنگی ادویات کی روک تھام کیلئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا اہم قدم
Iڈاکٹرزکو مہنگے برانڈز کی ادویات تجویز کرنے کے بجائے صرف عام فارمولہ لکھنے کی ہدایت کردی ، فارمولہ تجویز کرنے سے ادویات کی قیمتوں میں 20 سے 50 فیصد کمی آئے گی ،

رپورٹ
i اسلام آباد (آن لائن۔ 18 اپریل2021ء) پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں داکٹرز مریضوں کو برانڈڈ ادویات کا نام لکھ کر دینے کے بجائے اس کا فارمولہ تجویز کرنے کی ہدایت کردی۔ اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر فارمیسی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ڈاکٹر عبدالرشید کی جانب سے لکھیگئے خط میں صوبہ پنجاب ، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے سیکریٹریز صوبائی محکمہ صحت اور چیف کمشنر اسلام آباد سے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کسی مفاد پر مبنی برانڈ کی ادویات تجویز کرنے کے بجائیعام فارمولہ تجویز کریں ، تاکہ غریب شہریوں کو مہنگی ادویات نہ خریدنی پڑیں کیوں کہ وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل پر شہریوں نے شکایت کی ہے کہ سرکاری اور نجی ہسپتال کمپنیوں کی مہنگی ادویات تجویز کرتے ہیں اور ڈاکٹروں کے اس عمل سے ملک کے معاشی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے، جب کہ مریضوں کو مہنگے برانڈ کی ادویات خریدنے کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو میڈیکل اینڈ ڈینٹل پریکٹشنرز کے ضابطہ اخلاق کی بھی خلاف ورزی ہے۔اس حوالے سے ڈرگ لائرز فورم کے صدر اور فارماسسٹ نور مہر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ہدایات میں واضح ہے کہ ڈاکٹرز فارمولہ تجویز کریں ، پاکستان پریکٹشنر ایکٹ اور ضابطہ اخلاق کے تحت ڈاکٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ فارماسوٹیکل کمپنیوں سے کسی قسم کی مراعات لے کر ان کی ادویات تجویز نہیں کریں گے ، اس سے ادویات کی قیمتوں میں 20 سے 50 فیصد کمی آئے گی کیوں کہ دل کی بیماری کے لیے ایک دوائی 460 روپے جب کہ دوسری اچھی اور معیاری دوائی 49 روپے کی بھی مل رہی ہے ، اسی طرح کینسر کے لیے عام ادویات بالکل بھی مہنگی نہیں ہیں لیکن ڈاکٹرز مہنگے برانڈ تجویز کرتے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *