حکام نے خبردار کیا ہے

اماراتی حکومت نے ویکسین نہ لگوانے والوں پر سخت پابندیوں کا عندیہ دے دیا
حکام نے خبردار کیا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والے افراد کا کچھ مقامات پر داخلہ بند کیا جا سکتا ہے اور کچھ سروسز فراہم معطل کرنے پر غور ہو رہا ہے

دُبئی( 21 اپریل2021ء) یو اے ای میں جن پاکستانیوں نے ابھی تک جان بوجھ کر ویکسین نہیں لگوائی یا ویکسی نیشن سے کنی کترا رہے ہیں، وہ خبردار ہو جائیں۔ ان کے لیے مستقبل میں بڑی پریشانی پیش آ سکتی ہے۔ اماراتی حکام نے ویکسین نہ لگوانے والوں کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے جس پر اگلے کچھ روز میں عمل درآمد شروع ہو سکتا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ جن افراد کو ویکسی نیشن میں کوئی طبی عذر نہیں ہے، اس کے باوجود اگر وہ ویکسین نہیں لگوا رہے تو ایسے افراد کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ اس حوالے سے ایک تجویز زیر غور ہے۔ ویکسین نہ لگوانے والوں کا کچھ مقامات پر داخلہ بند کیا جا سکتا ہے اور انہیں کچھ سرکاری سروسز کی فراہمی بھی معطل کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے جلد فیصلہ متوقع ہے۔یہ بات نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹرز مینجمنٹ اتھارٹی (NCEMA)کے ترجمان سیف الظہیری نے مملکت میں کورونا کی صورت حال سے متعلق ایک بریفنگ کے دوران کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا ویکسین لگوانے میں جان بوجھ کر دیر کرنا یا اسے لگوانے سے گھبرانا اماراتی سماج اور افراد کو موذی وبا سے محفوظ بنانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان لوگوں کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ دیگر افراد کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔ کیونکہ دل، شوگر، بلڈ پریشرکی بیماریوں کے شکار اور بزرگ افراد کورونا وائرس کے باعث انتہائی خطرے کا شکار ہیں۔ امارات میں سولہ سال سے زائد عمر کے تمام تارکین اور مقامی افرادکو یہ ویکسین لازمی لگوانی چاہیے۔ ویکسین لگوانے کے بعد جسم میں امیونٹی یعنی قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے جو کورونا کے وائرس کا بھرپور طریقے سے مقابلے کر سکتی ہے۔ البتہ کچھ خاص امراض میں مبتلا افراد یہ ویکسین اپنے معالج کے مشورے کے بعد لگوائیں۔ باقی تمام افراد کو یہ ویکسین بلا جھجک لگوانی چاہیے۔ ابوظبی میں ایک تازہ ترین ریسرچ سے پتا چلا ہے کہ جو افراد ویکسین لگواتے ہیں، انہیں اگر کورونا ہو بھی جائے تو معمولی نوعیت کا ہوتا ہے، جس میں ہسپتال جانے کی نوبت کم آتی ہے اور مرض بگڑنے سے ہلاکت کا امکان بھی کم رہ جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.