سعودی مفتی اعظم کافتویٰ

”تراویح نماز گھر پر بھی پڑھی جا سکتی ہے“ سعودی مفتی اعظم کافتویٰ
شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کا کہنا ہے کہ گھر والوں کے ساتھ بھی یہ نفلی عباد ت کر کے اجر حاصل کیا جا سکتا ہے

مکہ مکرمہ( 26 اپریل2021ء) دُنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمان رمضان المبارک کے روزے رکھ رہے ہیں۔ اس مہینے میں عبادات پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک نفلی عبادت تراویح ہے، جسے مسلمان پڑھنا اپنے لیے باعث برکت خیال کرتے ہیں۔ رمضان کے پورے مہینے عشاء کی نماز کے بعد کی تراویح نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ تراویح صرف مسجد میں ہی ادا کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب کے مفتی اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بعض صورتوں میں تراویح کی نماز گھر پر بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ مفتی اعظم اور جید سعودی علماء کی کونسل کے سربراہ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا تراویح نماز مسجد میں پڑھنا لازمی ہے یا اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک مرد کے لیے تراویح نمازمسجد میں باجماعت ادا کرنا ہی بہتر ہے اور یہ سُنت رسول بھی ہے۔ سو تراویح کا بنیادی اصول تو یہی کہتا ہے کہ اسے مسجد میں ادا کیا جائے تاہم اگر کسی شخص کے گھر والے خصوصاً خواتین بھی نماز تراویح پڑھنا چاہتی ہیں تو ایسی صورت میں اس گھرانے کے افراد گھر پر ہی نماز تراویح ادا کر سکتے ہیں۔اس کا انہیں بھرپور اجر ملے گا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل مفتی اعظم اور علما کونسل کے چیئرمین الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے اپنے ایک فتوے میں کہا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا افراد دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ جو افراد کورونا کے مرض میں مبتلا ہو گئے ہوں انکا دوسرے افراد کے ساتھ میل جول رکھنا حرام ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.