کھانا کھانے والے 18 افراد کی حالت بگڑ گئی

مکہ مکرمہ کے مشہور ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے والے 18 افراد کی حالت بگڑ گئی
گاہکوں کو ہسپتال منتقل کر دیاگیا، ریسٹورنٹ ایک ماہ کے لیے سِیل کر دیا گیا ہے، بھاری جرمانہ اور تشہیر بھی ہو گی

مکہ مکرمہ(29 اپریل2021ء) سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ معظمہ کے ایک مشہور ریسٹورنٹ میں اس وقت کھلبلی مچ گئی، جب وہاں کھانا کھانے آئے گاہکوں کی طبیعت اچانک بگڑنے لگی۔ کچھ گاہکوں کو قے آنے اور پیٹ میں شدید تکلیف کی شکایت بھی پیدا ہوئی۔ جب کہ کچھ گاہک کھانا کھا کر جب گھر گئے تو پھر ان کی حالت بگڑ گئی۔ اس واقعے پر ریسٹورنٹ میں آئے دیگر گاہک بھی پریشان ہو گئے اور کھانا چھوڑ کر بھاگ اُٹھے۔یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گیا، جس کے بعد حکام نے فوری طور پر ریسٹورنٹ پہنچ کر کھانوں کے نمونے حاصل کر لیے اور ریسٹورنٹ کو بند کرادیا۔ بعد میں ان نمونوں سے پتا چلا کہ یہ کھانا خراب تھا، جس کی وجہ سے لوگوں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ مکہ میونسپلٹی کے مطابق فوڈ سیمپلز آنے کے بعد العوالی کے علاقے میں واقع اس مشہور ریسٹورنٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ وزیر بلدیات و دیہی امور نے فوڈ سیمپلز تیار کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد کیا ، جس میں تصدیق کی گئی تھی کہ ریسٹورنٹ میں 18 افراد کی حالت خراب ہونے کی وجہ وہاں پر پیش کئے گئے خراب اور زائد المیعاد کھانے تھے۔ اس زہر خورانی سے لوگوں کی طبیعت بگڑی اور کچھ کو ہسپتال جانا پڑا۔ یہ سب ان کی زندگیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔اس تحقیقاتی رپورٹ کے بعد انتظامیہ نے اس مشہور ریسٹورنٹ کو ایک ماہ کے لیے بند کر دیا ہے۔ ریسٹورنٹ پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے اور اس کی مقامی اخبارات میں تشہیر بھی ہوتی رہے گی۔ ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے پر ایک وارننگ نوٹس بھی چسپاں کیا گیا ہے، جس کے مطابق اس ریسٹورنٹ کو زہر خورانی کے واقعے پر سِیل کیا گیا ہے اور اگلے ایک ماہ تک اسے بند ہی رکھا جائے گا۔ دوسری جانب سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان طلال الشلھوب نے خبردار کیا ہے کہ ’کورونا کیسز بڑھنے پر بعض شہروں اورعلاقوں میں لاک ڈاوٴن لگایا جاسکتا ہے اور کئی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوسکتی ہے۔ وائرس کو روکنے کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پراقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مملکت میں کورونا ایس او پیز کی پابندی نہ ہونے کے باعث واقعات ریکارڈ پر آرہے ہیں۔اگر وبا کی شرح اور نازک کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو ایسی صورت میں ایسے اقدامات کرنا پڑیں گے جو معاشرے کے لیے ناپسندیدہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کیسز میں اضافے پر متعلقہ شہروں اور محلوں میں لاک ڈاوٴن لگایا جاسکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ وسائل معطل کیے جاسکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.