نام پاکستانی شخصیات اور شہروں کے نام پر ہیں

سعودی عرب کی پاکستان سے محبت کا اظہار، کئی سڑکوں کے نام پاکستانی شخصیات اور شہروں کے نام پر ہیں
سعودیہ میں ’شارع محمد علی جناح‘’شارع محمد اقبال‘’شارع فرمان علی‘ اور ’شار ع اسلام آباد‘ موجود ہیں

ریاض( 24 اپریل2021ء) سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مثالی برادرانہ تعلقات قائم ہیں، جن کی بنیاد کلمہ طیبہ کے باعث اخوت کے رشتے پر اُستوار ہے۔ دونوں ممالک ہر معاملے اور مسئلے پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں۔ پاکستان پر جب بھی کوئی مصیبت، آفت یا مشکل دور آیا تو سعودی حکومت نے بھرپورمالی، سفارتی اور اخلاقی حمایت فراہم کی ہے۔ ہر سال سعودی حکومت کی جانب سے پاکستانی عوام میں اربوں روپے کا راشن بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستانی عوام سعودی فرمانرواؤں اور سعودی عوام کو بہت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔ سعودی عرب کی پاکستان سے محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مملکت کی کئی اہم شاہراہوں کے نام پاکستانی شخصیات اور علاقوں کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ اُردو نیوز کے مطابق دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات کی ایک مثال سعودی دار الحکومت ریاض کے علاوہ جدہ میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے جہاں اہم شاہراہوں کے نام بانی پاکستان اور مفکرپاکستان کے ناموں پر رکھے گئے۔دارالحکومت ریاض کے علاقے ’غرناطہ ‘ میں ایک طویل شاہراہ ہے جسے ’شارع محمد علی جناح‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس طویل شاہراہ کو بابائے قوم سے منسوب کرنے سے پاکستان کی اہمیت اور مملکت کے قائدین وعوام کے دلوں میں ’پاکستان‘کی چاہت واضح طور پرظاہر ہوتی ہے۔ ریاض میں شاہراہ حائل کے عقب میں ایک اور شاہراہ ہے جسے مفکر پاکستان کے نام سے موسوم کرتے ہوئے اسے ’شارع محمد اقبال ‘ کہا جاتا ہے۔ ریاض میں پاکستان کے دارالحکومت ’اسلام آباد‘ کے نام سے بھی ایک شارع ہے جس کے بورڈ دیکھ کر ہر پاکستانی کو اسلام آباد کی یادآ جاتی ہے۔اس کے علاوہ جدہ کے علاقے ’قویزہ’ میں بھی پاکستانی شخصیت کے نام پر ایک سڑک ’شارع فرمان علی خان‘ ہے۔ جسے ہمارے یہاں تو شاید کوئی نہیں جانتا، مگر سعودی عوام اس کی بہادری کا آج بھی احسان مندی کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ فرمان علی خان جس نے انسانیت کی مدد کی خاطر اپنی جان قربان کر دی جس کا آج کئی سال بعد بھی سعودی عوام اعتراف کرتے ہیں۔ 7 دسمبر 2009 کے دن جدہ میں طوفانی بارش کی وجہ سے آدھا شہر زیر آب آگیا تھا۔ایسے وقت میں وادی سوات کے ایک جوان نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے 14 افراد کو تیز رو برساتی ریلے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ فرمان علی خان تیزرو برساتی پانی کی پروا نہ کرتے ہوئے 15ویں شخص کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کہ وہ خود بھی اس ریلے میں بہہ گئے۔ سعودی حکومت کی جانب سے فرمان علی خان کو قومی ہیرو کا درجہ دیا گیا اور اسے مملکت کااعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’شاہ عبدالعزیز میڈل درجہ اول‘ دیا گیا۔ ولی عہد مملکت شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر فرمان علی خان کی خدمات کے اعتراف میں خیبر پختون خواہ میں وادی سوات میں صحت مرکز کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ جدہ کے علاقے ’قویزہ‘ کی اہم شاہراہ جہاں وادی سوات کا یہ جوان تیز وتند سیلابی ریلے سے لوگوں کو بچاتے ہوئے خود بھی اس کی نذر ہوگیا تھا کو’شارع فرمان علی‘ کا نام دیا گیا۔ اہل جدہ کے لیے فرمان علی خان ایک ہیرو ہے۔جدہ کے لوگ اس کی عظمت اور بہادری کی مثال دیتے ہیں ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں ’ بطل باکستانی فرمان علی خان‘۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *