وفاقی حکومت نے مزید پابندیوں کا اعلان کردیا

کورونا کا پھیلاؤ ، وفاقی حکومت نے مزید پابندیوں کا اعلان کردیا
کورونا ایس اوپیز پر عمل کرانے کیلئے پاک فوج سے مدد لینے کا فیصلہ کرلیا گیا ، ان ڈور کے بعد آؤٹ ڈور ڈائننگ پر بھی پابندی لگادی گئی ، آفس ٹائمنگ 2 بجے تک کرنے کا فیصلہ ، زیادہ کورونا کیسز والے شہروں میں 9 ویں سے 12 ویں جماعت کی کلاسز عید تک بند کردی جائیں گی ، اگلے چند دنوں میں صوبوں کے ساتھ مل کر پلاننگ کی جائے گی ، سربراہ این سی او سی اسد عمر کی میڈیا بریفنگ

اسلام آباد ( 23 اپریل2021ء) ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کے باعث حکومت نے مزید پابندیوں کا اعلان کردیا ، ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، اگلے چند دنوں میں صوبوں کے ساتھ مل کر پلاننگ کی جائے گی ، ۔ تفصیلات کے مطابق این سی او سی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں سربراہ این سی او سی اسد عمر نے بتایا کہ پاکستان میں کورونا کا پھیلاؤبڑھ گیا ہے ، اگر کورونا زیادہ بڑھ گیا توخدشہ ہے کہ لاک ڈاون ہوجائے گا ، اس کو روکنے کے لیے ان ڈور کے بعد آؤٹ ڈور ڈائننگ پر بھی پابندی لگادی گئی ہے ، جن شہروں میں کورونا کیسززیادہ ہوں گے وہاں 9 ویں سے 12ویں جماعت کی کلاسز عید تک بند کردی جائیں گی ، تمام وہ اضلاع جہاں 5 فیصد سے زیادہ مثبت کیسز ہیں وہاں اسکول میٹرک تک بند ہوں گے ، تمام بازار صرف شام 6 بجے تک کھلے ہوں گے شام 6 بجے کے بعد اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلیں گی ، پہلے صرف ان ڈور ڈائننگ پر پابندی تھی اب آؤٹ ڈور پر بھی عید تک پابندی لگائی جارہی ہے ، اب صرف ٹیک اوے کی اجازت ہو گی ، جن شہروں میں کورونا کیسز کی تعداد زیادہ ہے وہاں تعلیمی ادارے بند کردیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ آفس ٹائمنگ 2 بجے تک کی جارہی ہے ، 50 فیصد ورک فرام ہوم کی پالیسی پر زور دیا جا رہا ہے اس لیے دفتر میں 50 فیصد سے زیادہ لوگوں کو نہ بلایا جائے، لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبوں سے مل کر پلان بنائیں گے۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کیسزمیں اضافہ ہورہاہے ، ہم نے احتیاط نہ کی تو 2ہفتوں میں ہمارے حالات بھارت جیسے ہوجائیں گے ، حالات قابو سے نکل گئے تو سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ، ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے فوج سڑکوں پر نکلے گی ، میں نے فوج کو کہا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے ہماری فورسز کے ساتھ سڑکوں پر آئے ، ہم اب تک لوگوں کو ایس او پیز پر چلنے کا کہتے رہے ہیں لیکن لوگوں میں کوئی خوف نہیں اور کوئی احتیاط نہیں کررہے اس لیے فوج کو پولیس اور فورسز کی مدد کرنے کا کہا ہے۔
این سی او سی اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن اس لیے نہیں کررہا کیوں کہ غریب مزدور طبقہ متاثر ہوگا ، لاک ڈاؤن کیاتو معیشت بیٹھ جائے گی ، اس لیے شہری کورونا ایس او پیزپر عمل کویقینی بنائیں ، ماسک لگانے سے آدھا مسئلہ حل ہوجاتاہے ، مجھے لوگ آج کہہ رہے ہیں لاک ڈاؤن کردو ، حالات قابو سے نکل گئے تو سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ، بھارت میں کیسز کی وجہ سے آکسیجن کی کمی ہوگئی ہے ، بھارت جیسے حالات ہوگئے تو شہر بند کرنا پڑیں گے ، وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے بہترین حکمت عملی سے کورونا پر قابو پایا تھا ، ہماری مساجد میں ایس او پیز پر عمل ہوا ، ہماری مساجد سے کورونا نہیں پھیلا ، ہم نے احتیاط نہیں کی تو لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا ، لیکن لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو ہوگا ، معیشت کو نقصان پہنچے گا، دکانداروں اور فیکٹریوں کو نقصان پہنچے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.