قیام اللیل کی اجازت دے دی گئی

رمضان کے آخری عشرے میں قیام اللیل کی اجازت دے دی گئی
مسجد الحرام میں قیام اللیل کے لیے اجازت نامہ ’توکلنا‘ ایپ کے ذریعے حاصل کرنا ہوگا، ورنہ داخلے کی اجازت نہیں ہو گی

مکہ مکرمہ(۔30 اپریل2021ء) رمضان المبارک میں ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ عبادت کرے تاکہ اللہ کی خوشنودی اور فضل و کرم حاصل ہو سکے اور اس کے زیادہ سے زیادہ گناہ جھڑ سکیں۔ رمضان کی ایک بڑی عبادت قیام اللیل ہے جو رمضان کے آخری عشرے میں ادا کی جاتی ہے۔ اس عبادت کی بہت فضیلت ہے۔ اس حوالے سے خوش خبری یہ ہے کہ سعودی حکومت نے قیام اللیل کی نفلی عبادت کی اجازت د دی ہے۔تاہم اس کے لیے توکلنا ایپ سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہو گا۔وزارت حج وعمرہ کی جانب سے ایک خصوصی بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد الحرام میں رمضان شریف کے آخری عشرے میں ’قیام اللیل‘ کی عبادت کرنے کے خواہش مندوں کو ’توکلنا‘ ایپ کے ذریعے پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔ اس مشروط اجازت کی وجہ کورونا وبا کے باعث پیدا ہونے والے حالات ہیں۔تاکہ لوگوں کی ایک مخصوص تعداد ہی مسجد الحرام میں داخل ہو سکے تاکہ لوگ عبادت بھی کر سکیں اور سماجی فاصلے کو ممکن بنا کر کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بھی محفوظ رہیں۔اسی وجہ سے مسجد الحرام میں نماز پنجگانہ اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے آنے والوں کو بھی توکلنا ایپ سے پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ رمضان کے دوران اب تک سترہ لاکھ سے زائد افراد مسجد الحرا م میں نماز اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے آ چکے ہیں۔ گزشتہ سال کورونا وبا کے آغاز پر مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں رمضان کے مہینے میں تمام تر عبادات پر پابندی عائد تھی۔تاہم اس بار اجازت نامے کے ساتھ لوگوں کی ایک پابند شدہ گنتی کو آنے کی اجازت دی گئی ہے۔کوئی بھی پرمٹ حاصل کرنے کے لیے کوئی فیس مقرر نہیں کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ قیام اللیل سے مراد ہے ’رات کے وقت قیام کرنا‘، یعنی رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے آدھی رات کے وقت اپنی نیند قربان کر کے اس کی عبادت میں مصروف رہنا۔ قیام اللیل کی مذہبی کتابوں میں بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس نماز کا دورانیہ ایک گھنٹے سے تین گھنٹے تک ہوتا ہے مگر وبا کی وجہ سے آدھ گھنٹے کی عبادت کی اجازت دی گئی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.