ایک ہو جانے کی بڑی اُمید پیدا ہو گئی

اُمت مسلمہ میں اختلافات کے خاتمے اوراسلامی ممالک کے ایک ہو جانے کی بڑی اُمید پیدا ہو گئی
سعودی ولی عہد کی جانب سے ایران سے تعلقات بہتر بنانے کے بیان کا ایران نے بھی خیر مقدم کر دیا

ریاض (30 اپریل2021ء) اُمت مسلمہ کئی اختلافات کا شکار ہے، جس کی وجہ سے کئی ممالک میں خونریزی اور قتل و غارت بھی ہو رہی ہے۔ اس وقت اسلامی دُنیا دو بڑے بلاکس میں بٹی ہوئی ہے، کچھ ممالک سعودی عرب کے ساتھ ہے اور کچھ ایران کی حمایت کرتے ہیں۔ان اختلافات کی وجہ سے بہت سے ممالک اپنے بجٹ کا بڑا حصہ عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اسلحہ خریدنے اور فوج بڑھانے پر خرچ کرتے ہیں۔تاہم گزشتہ دنوں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا بیان دیا تھا۔ جس کا ایرانی حکومت کی جانب سے بھی خیر مقدم کیا گیا ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ریاض اور تہران تعمیری بات چیت کو اپنا سکتے ہیں اور اختلافات پر قابو پا سکتے ہیں۔خطیب زادہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اور ایران اسلامی دنیا کے اہم ممالک ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سعودی اور ایرانی تعاون اہم ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے چند روز قبل ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کو پڑوسی ملک کی حیثیت سے دیکھتا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض تہران کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کا خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ تہران کا منفی طرز عمل ہے۔ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام اور ملک سے باہر ایرانی ملیشیاؤں کی مدد تہران کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ ہے۔جب ان سے ایران کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نیکہا کہ ایران ایک ہمسایہ ملک ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے ساتھ تعلقات خراب کریں، اس کے برعکس ہم چاہتے ہیں کہ ایران ترقی کرے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.