قرنطینہ سے متعلق اہم رعایت دے دی

ابوظبی نے مزید 7 ممالک کے شہریوں کو قرنطینہ سے متعلق اہم رعایت دے دی
ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے تازہ گرین لسٹ جاری کر دی، قرنطینہ کی پابندی سے اب 21 ممالک کو چھوٹ مل گئی ہے

ابوظبی(24 اپریل 2021ء) ابوظبی کی جانب سے قرنطینہ فری ممالک پر مشتمل گرین لسٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں شامل مسافروں کو ابوظبی آنے پر قرنطینہ میں نہیں رہنا ہو گا۔ دو ہفتے قبل جاری کردہ گرین لسٹ میں اسرائیلی باشندوں کو بھی شامل کر لیا گیا تھا۔ اب ابوظبی کے ٹور ازم ڈیپارٹمنٹ نے ان ملکوں اور مقامات کی فہرست اپڈیٹ کی ہے جہاں سے آنے والے مسافر بغیر قرنطینہ کے ابوظبی میں داخل ہو سکتے ہیں۔تازہ ترین فہرست میں اب مزید سات ممالک شامل کیے گئے ہیں، جس کے بعدقرنطینہ فری رعایت حاصل کرنے والے ممالک کی گنتی 21 ہو گئی ہے۔ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی جاری کی گئی نئی فہرست کے مطابق اب ان ممالک سے آنے والے افراد کو ابوظبی ایئرپورٹ پر صرف پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ انہیں قرنطینہ اختیار کرنے کی پابندی نہیں ہوگی۔ گرین لسٹ میں سعودی عرب، سنگاپور، آسٹریلیا، بھوٹان، برونائی، چین، گرین لینڈ، اسرائیل،جاپان، ماریشس،ہانگ کانگ، آئس لینڈ، مراکش، نیوزی لینڈ،پرتگال، روس، ساؤتھ کوریا، برطانیہ، سوئزر لینڈر، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔اسی طرح ان ممالک سے آنے والے غیر ملکی باشندوں کو بھی قرنطینہ کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ دارالحکومت ابوظبی میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نئی پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔جن کے تحت ابوظبی شہر میں اجتماعات اور تقریبات کے انعقاد کی سختی سے ممانعت کردی گئی ہے،فلم تھیٹر بند رہیں گے۔شادیوں اورخاندانی اجتماعات میں صرف دس افراد شریک ہوسکیں گے۔جبکہ اماراتی وزارت برائے انسانی وسائل و اماریتائزیشن نے پانچ کاروباری شعبوں کے ملازمین کو پابند کیا ہے کہ وہ ہر دو ہفتے بعد پی سی آر ٹیسٹ کروانے کے پابند ہوں گے ورنہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت کی جانب سے متعلقہ شعبوں سے منسلک دُکانوں، کمپنیوں اور اداروں کے مالکان کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام کارکنان کا لازمی پی سی آر ٹیسٹ کروائیں۔ یہ پابندی مندرجہ ذیل شعبوں پر عائد ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق اماراتی حکومت نے پانچ شعبوں کے ملازمین کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کی شرط لازمی قرار دے دی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق مندرجہ ذیل شعبوں پر ہو گا۔۔ ہوٹلزاور ریسٹورنٹس کے ملازمین ۔ ٹرانسپورٹ سے جُڑے افراد۔ ہیلتھ سیکٹر سے منسلک افراد ۔ لانڈریوں کے کارکنان ۔ بیوٹی سیلونز اور ہیئر سیلونز کے کارکنان

Sharing is caring!

Comments are closed.