شاپنگ ہمیشہ افطار کے بعد کی جائے

”روزے کی حالت میں شاپنگ کرنا اچھا فیصلہ نہیں ہوتا ، شاپنگ ہمیشہ افطار کے بعد کی جائے“
دُبئی اکانومی کی ریسرچ کے مطابق شدید بھُوک پیاس کے دوران بہترین اشیاء کا انتخاب کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے

دُبئی( اپریل2021ء) رمضا ن المبارک کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں عید الفطر جیسے خوشیوں بھرے تہوار سے نوازا ہے۔ اس تہوار کو منانے کے لیے دُنیا بھر کے مسلمان مرد و خواتین رمضان کے مہینے میں خوب شاپنگ کرتے ہیں جن میں جوتے، کپڑے، جیولری، میک اپ کا سامان اور اسی نوعیت کی دیگر اشیاء شامل ہیں۔ زیادہ تر افراد روزے کے حالت میں شاپنگ کرنے نکل جاتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ افطار سے قبل وہ سامان خرید کر گھروں کو لوٹ جائیں۔اس حوالے سے دُبئی کی معاشی سرگرمیوں سے متعلق سرکاری ادارے ’دُبئی اکانومی‘ کی ایک دلچسپ ریسرچ سامنے آئی ہے۔ دُبئی اکانومی کا کہنا ہے کہ روزے کے دوران شاپنگ کرنا اچھا فیصلہ ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ بہت زیادہ امکان ہوتا ہے کہ آپ بہترین کی بجائے درمیانی اشیاء اور سامان خرید لائیں۔دُبئی اکانومی کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے ”روزے کی حالت میں شاپنگ کرنے سے پہلے کئی بار سوچ لیجیے۔کیونکہ تازہ ترین ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بھوک اور پیاس کی کیفیت میں سامان خریدنے کے دوران بہترین اشیاء کا انتخاب کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے زیادہ بہتر یہ ہو گا کہ افطار کے بعد شاپنگ کی جائے۔ روزے کی حالت میں شدید بھوک اور پیاس کی وجہ سے شاپنگ کرنا کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ جسم کو خوراک اور پانی کی حاجت ہونے سے ہماری شاپنگ کے دوران توجہ بار بار بٹ جاتی ہے، اس لیے اکثر عمدہ اشیاء خریدنے سے رہ جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں لاشعوری طور پر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ بس گزارے لائق کوئی کپڑا، جوتا یا دوسرا سامان مل جائے تو اسے لے کر افطار سے قبل گھر پہنچ کر آرام کیا جائے ۔“ اس ریسرچ کے مطابق یہاں تک کہ گھریلو ضرورت کے عام سامان کی خریداری بھی روزے کی حالت میں سے بہترین کا انتخاب ممکن نہیں ہو پاتا۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے درست فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چونکہ امارات میں بہت گرمی ہوتی ہے، اس لیے روزے کے دوران انسانی جسم کو خاص طور پر پانی کی طلب بہت زیادہ ہوتی ہے، تو سارا دھیان یہیں پر ہوتا ہے۔ زیادہ مناسب یہی ہو گا کہ افطار کے بعد پیٹ بھر ا ہونے کے بعد آرام اور تسلی سے شاپنگ کی جائے کیونکہ ایسی صورت میں ہمیں گھر پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *