”22 کروڑ عوام کا ڈیٹا خطرے میں پڑ گیا“فراڈ کے الزام میں بلیک لسٹ امریکی شہری کو چیئرمین نادرا لگانے کا فیصلہ، اہم وفاقی وزیر کے کہنے پر میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں

”22 کروڑ عوام کا ڈیٹا خطرے میں پڑ گیا“فراڈ کے الزام میں بلیک لسٹ امریکی شہری کو چیئرمین نادرا لگانے کا فیصلہ، اہم وفاقی وزیر کے کہنے پر میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان کے 22 کروڑ عوام کا ڈیٹا خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ حکومت ایک ایسے شخص کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا چیئرمین لگانے جارہی ہے جو کہ امریکی شہری ہے اور اسے فراڈ کے الزام میں بلیک لسٹ بھی قرار دیا جا چکا ہے لیکن وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری اس کے سب سے بڑے سفارشی ہیں اور انہی کی سفارش پر میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سمری میں بھی تبدیلی کر دی گئی اور بلیک لسٹ سہیل منیر کا نام سمری میں سرفہرست رکھا گیا حالانکہ وزارت داخلہ کی سمری میں ان کا نام تک نہیں تھا اور وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اس سارے معاملے میں بے بس نظر آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شفافیت اور میرٹ کا دعوی کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے خود ہی میرٹ کی دھجیاں اڑانا شروع کردی ہیں اور ایک ایسے شخص کو خلاف قواعد چیئرمین نادرا لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس نے درخواست ہی نہیں دی تھی اور اس شخص کی کمپنی پہلے ہی بلیک لسٹڈ ہے اور امریکی شہریت بھی رکھتا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو تین ناموں پر مشتمل سمری بھجوائی گئی تھی مگر وزیراعظم آفس کے اعلیٰ حکام نے اس سمری میں دو مزید نام نہ صرف شامل کروائے بلکہ انہیں سرفہرست بھی رکھ لیا،حالانکہ جن تین ناموں کی سمری بھجوائی گئی تھی انہیں شارٹ لسٹ کرکے انٹرویو بھی کئے گئے تھے مگر چند روز قبل حیرت انگیز طور پر سہیل منیر کا نام سرفہرست کے طور پر سمری میں شامل کیا گیا اور اس کی ہدایت وزیراعظم آفس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے دی گئی۔سہیل منیر کی کمپنی C41کے ساتھ فراڈ کرچکی ہے اور اسے بلیک لسٹ بھی قرار دیا جاچکا ہے۔سہیل منیر خود بھی امریکی شہری ہیں اور بیوروکریسی کے سینئر افسران نے اس کو نادرا جیسے حساس ادارے کا چیئرمین بنانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ایسا شخص جو امریکی شہریت رکھتا ہے اسے پاکستان کے شہریوں کا ڈیٹا رکھنے والے ادارے کا سربراہ کیسے بنایا

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *