چھ ماہ کے لیے کارآ مد ہونا

پاکستانی دُبئی کی کمپنیوں میں ملازمت کے لیے ریموٹ ورک ویزہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
دُبئی ورچوئل ویزہ کے حوالے سے شرائط کا اعلان ، پاسپورٹ اگلے چھ ماہ کے لیے کارآ مد ہونا بھی لازمی ہے

دُبئی( 2021ء) متحدہ عرب امارات کی جانب سے گزشتہ ہفتے نئی ریموٹ ورک ویزا اسکیم کا اعلان کردیا۔ نئی ویزہ پالیسی کا اعلان متحدہ عرب امارات کے نائب صدر ، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کیا ، جس کے تحت غیرملکی شہری متحدہ عرب امارات میں رہتے ہوئے بیرون ملک ریموٹ طریقہ کار سے کہیں بھی اپنی ملازمت کو جاری رکھ سکیں گے۔بتایا گیا ہے کہ ان افراد میں ایسے لوگ شامل ہیں جو کہ پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لیے متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہوسکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں کہیں بھی ملازمت کرتے ہوں اور وہاں بھی پیشہ ورانہ خدمات کے سلسلے میں رابطہ کرتے ہیں۔کورونا وبا کے باعث دُنیا کی بہت کی سی کمپنیوں نے ورچوئل ورک کی اجازت دے دی ہے۔امارات میں بھی کورونا وبا کے پیش نظر 21 مارچ کو نئی طرز کے ویزے کا اعلان کیا ہے جس سے لوگ امارات میں رہائش اختیار کیے بغیر بھی یہاں کی کمپنیوں میں ملازمت کر سکیں گے۔اس سے پاکستانی بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔جو لوگ دُبئی کا ورچوئل ویزہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں دُبئی ٹورازم کی ویب سائٹ وزٹ دبئی ڈاٹ کام پر ایک سال کے ویزے کی درخواست دینا ہو گی۔ جس کے لیے چار بنیادی شرائط مندرجہ ذیل ہیں:ً۔ ویزے کی درخواست دیتے وقت پاسپورٹ کی کم از کم میعاد چھ ماہ ہونا ضروری ہے۔۔ اماراتی کوریج کے ساتھ میڈیکل انشورنس کروانی ہو گی۔۔ ملازمین کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اپنے موجود آجر کے ہاں ملازمت کا ثبوت ایک سال کے معاہدے کی توثیق کے ساتھ پیش کریں۔ماہانہ تنخواہ کم از کم پانچ ہزار ڈالرہونی چاہیے، گزشتہ ماہ کی پے سلپ اور گذشتہ تین ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ بھی سبمٹ کرانا ہوں گی۔۔ جبکہ کاروباری افراد کے لیے اپنی کمپنی کی ایک سال سے زائد عرصہ کی ملکیت کا ثبوت پیش کرنا ہو گا۔ ماہانہ آمدنی پانچ ہزار ڈالرہونا لازمی ہے جس کا ثبوت گزشتہ تین ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ کے ساتھ سبمٹ کروانا لازمی ہوگا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.