پ نے گھبرانا نہیں ہے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان قرضوں میں ڈوبا ہواہے ‘ہر سال قسطیں بڑھتی جارہی ہیں ‘واپسی کیلئے مزید قرض لینا پڑ رہا ہے ‘بدقسمتی سے ایسے قرضے لئے گئے ہیں جن سے مزید قرضے چڑھ رہے ہیں ‘ مسلم لیگ (ن) نے ڈھائی سال میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ
واپس کیا تھا اور ہم نے اپنے ڈھائی سال میں 35 ہزار ارب روپے کا قرضہ واپس کیا‘ہم نے (ن) لیگ سے 15 ہزار ارب اضافی قرض واپس کیا‘ اگر یہی 15ہزار ارب روپے انفرااسٹرکچر پر لگتے تو ملک تبدیل ہوجاتا‘ میرے وزیروں کو بھی نہیں پتہ کہ ہم نے پچھلے دو سال کتنی تنگی میں گزارے ہیں‘ عوام کو اپنے گھروں کی فراہمی کا وعدہ پورا کریں گے ‘ کسانوں کے لئے بھی رہائشی منصوبے لے کر آئیں گے‘ تعمیراتی شعبے کو دیئے گئے پیکج اور مراعات کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، معاشی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں‘ کورونا وائرس کی صورتحال سے ترقی پذیر ملکوں کو زیادہ نقصان پہنچا، لوگوں کو صرف کورونا سے نہیں بلکہ بے روزگاری سے بھی بچانا ہے،وباءکے نتیجے میں لاکھوں افراد بے روزگار اور کروڑوں مقروض ہو گئے‘ دنیا کے مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا‘ہمیں نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ہنر سکھانا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نےجمعرات کونیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کے تحت فراش ٹائون میں اپارٹمنٹس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب اور 10ویں ڈی ایٹ ورچوئل سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بینک عام آدمی کو گھر کی تعمیر کے لئے قرضے نہیں دیتے تھے،ابھی بھی بینکوں کے نچلے اسٹاف کی طرف سے بعض رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں جنہیں دور کیا جا رہا ہے ۔ وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ جس طرح ایف ڈبلیو او نے ریکارڈ مدت میں کرتارپور اہداری منصوبے کو مکمل کیا اسی طرح نیا پاکستان ہائوسنگ کے اس منصوبے کو بھی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا جائےگا۔ یہ منصوبہ عام مزدور، مکینک ، ویلڈر جیسے محنت کش طبقات کے لئے ہے، حکومت نچلے طبقے کو گھر کی فراہمی کے لئے 3 لاکھ روپے کی سبسڈی دے رہی ہے ۔ سی ڈی اے 600 گھر کچی آبادی کے لوگوں کو دے رہا ہے‘ہم کچی آبادیوں کو تبدیل کریں گے اور انہیں مالکانہ حقوق دیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.