عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں رہے

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں رہے

یہ قصہ یوسف رضا گیلانی سے شروع ہوا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں جتایا گیا وہ سخت ناراض ہیں۔عبدالحفیظ شیخ کو اسی لیے برطرف کیا، وہ تین دفعہ اسمبلیاں توڑنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔ہارون الرشید کا تجزیہ
سینیئر تجزیہ کار ہارون رشید کا کہنا ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں رہے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معلومات کھل کر سامنے نہیں آرہی جو آرہی ہیں وہ ایسے لوگوں کے ذریعہ آرہی ہیں جنہیں فریق سمجھا جاتا ہے۔یہ ایسی چیز ہے جس میں لوگ تفصیل بیان کرنے سے جھجکتے ہیں، میری معلومات یہی ہیں کہ یہ ایک پیج پر بالکل نہیں ہیں۔ ہارون رشید کے مطابق یہ قصہ یوسف رضا گیلانی سے شروع ہوا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں جتایا گیا وہ سخت ناراض ہیں۔عبدالحفیظ شیخ کو اسی لیے برطرف کیا، وہ تین دفعہ اسمبلیاں توڑنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں ہیں۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عامر ڈوگر نے وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیوں کا اشارہ دے دیا ، انہوں نے کہا کہ حفیظ شیخ کو ہٹائے جانے کے بعد کابینہ میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے ، جن میں سے کچھ وزیروں کو کارکردگی کی بنیاد پر ہٹایا جاسکتا ہے ، اس ضمن میں کچھ وزارتوں میں تبدیلی جب کہ کچھ کو تقسیم کریں گے ، ایک وزیر فیصل آباد ، ایک بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کا وزیر کابینہ میں شامل ہوگا ، عامر ڈوگر نے کہا کہ مہنگائی کا سیلاب نہ تھمنے کی ذمہ داری وزیر خزانہ پر ہی آتی ہے ، تاہم حفیظ شیخ پاکستان کو بہت بہتر پوزیشن میں لائے ، کیوں کہ عالمی ڈونرز کے ساتھ بھی حفیظ شیخ نے اچھی طرح مذاکرات کیے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.