سعودیہ میں مقیم پاکستانی ٹریفک

سعودیہ میں مقیم پاکستانی ٹریفک، اقامہ اور خروج وعودہ پر عائد چالان فیس کی ادائیگی کیسے کر یں؟
ٹریفک خلاف ورزیوں پر عائد جرمانہ 300ریال سے 3 ہزار درہم تک ہے، جبکہ اقامہ ایکسپائری پر پہلی بار پانچ سو اور دوسری بار ایک ہزار ریال جرمانہ ہو تاہے

ریاض( ۔یکم اپریل2021ء) سعودی عرب میں ٹریفک قواعد، اقامہ قوانین اور خروج وعودہ و خروج نہائی سے متعلق خلاف ورزیوں پر جرمانہ ہوتا ہے جن کی ادائیگی حکومتی اداروں کو کی جاتی ہے۔ مملکت میں ٹریفک خلاف ورزیوں پر 100 ریال سے 3 ہزار ریال تک جرمانہ ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ جرمانہ سگنل توڑنے پر ہوتا ہے جس کی مالیت 3 ہزار ریال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اقامہ ایکسپائر ہونے پر دیر سے تجدید کروانے پر پہلی بار 5 سو ریال جبکہ دوسرے سال بھی ایسا کرنے پر ایک ہزار جرمانہ ہوتا ہے اور تیسرے سال بھی ایساکرنے پر ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔ اُردو نیوز کے مطابق ان تمام چالانوں کی ادائیگی مملکت کے مختلف شہروں میں لوگوں نے نجی دفاتر کھول رکھے ہیں جہاں فی چالان پانچ ریال اضافی لے کر جمع کروائے جاسکتے ہیں۔ جرمانوں کی ادائیگی بینک اکاوٴنٹ سے یا آن لائن بھی کی جاسکتی ہے۔ بینک اکاونٹ میں ’سداد ‘ کا ایک آپشن ہوتا ہے جس کے معنی ادائیگی کے ہیں۔ اس آپشن کے ذریعے محکمے کو منتخب کرنے کے بعد اقامہ نمبر مخصوص خانے میں درج کرنے سے چالان کی رقم ظاہر ہو جاتی ہے جس پر ’pay‘ کا آپشن استعمال کرتے ہوئے ادا کیا جاسکتا ہے۔بینک اے ٹی ایم کے ذریعے بھی چالانز کی ادائیگی ممکن ہوتی ہے۔ مملکت میں رہنے والے غیرملکیوں کے اقامہ نمبر سے تمام اداروں میں ان کی فائل رجسٹر ہوتی ہے۔ یکساں نمبر کے سبب ٹریفک خلاف ورزی پر ہونے والے چالان کی عدم ادائیگی پراقامے کی تجدید اور ایگزٹ وغیرہ نہیں لگایا جاسکتا جب تک چالان کی ادائیگی نہیں کی جاتی سسٹم سیز ہوجاتا ہے۔ اگر کسی کو اس امر کا یقین ہے کہ اس کا چالان غلط کیا گیا ہے تو وہ ابشر پورٹل پر چالان پراعتراض کا آپشن استعمال کرتے ہوئے ہونے والے چالان کے خلاف اپیل دائر کرسکتا ہے۔
اپیل دائر کرنے کے بعد متعلقہ ادارے میں جہاں اپیل دائر کی گئی ہے وقت مقررہ پر حاضر ہوکر اعتراض کے بارے میں دلائل دیے جاسکتے ہیں۔ ایک شخص نے دعویٰ دائر کیا کہ ان کی گاڑی جدہ میں ہے جبکہ ان کے نام سے چالان ریاض شہر میں آیا ہے جبکہ وہ ان دنوں ریاض گئے ہی نہیں جب چالان رجسٹرہوا۔ دعویٰ درست ثابت ہونے پر چالان ختم کردیا جاتا ہے۔ بعض اوقات سسٹم میں ہونے والی غلطی کی وجہ سے چالان ہو جاتا ہے جس پر اعتراض دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.