کورونا وائرس کی تشخیص

چینی ویکسین لگوانے کے باوجود ہیلتھ ورکرز میں کورونا وائرس کی تشخیص
ہیلتھ ورکرز نے چار فروری کو چین سے آنے والی ویکسین لگوائی تھی

لاہور (۔ 02 مارچ 2021ء) : چین سے آنے والی ویکسین لگوانے کے باوجود ہیلتھ ورکرز میں دوبارہ سے کورونا وائرس کی تشخیص کا انکشاف ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے میو اسپتال میں دو ہیلتھ ورکرز نے چین سے آنے والی کورونا ویکسین کی ابتدائی خوراک لگوائی لیکن اس کے باوجود دونوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو گئی۔ دونوں ہیلتھ ورکرز میاں بیوی ہیں۔ جبکہ ہیلتھ ورکر کی بیوی اسی اسپتال میں بطور نرس کام کرتی ہے۔ مذکورہ جوڑے نے چار فروری کو ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگانے کی حکومتی مہم کے تحت ویکسین کی ابتدائی ڈوز لگوائی۔ ہیلتھ ورکر جوڑے کو ویکسین کی دوسری ڈوز 25 فروری کو لگنا تھی لیکن اس سے قبل ہی دونوں کو بخار محسوس ہوا جس پر میاں بیوی نے اُسی دن اپنا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا۔ جس کے بعد رپورٹ 28 کو موصول ہوئی جس میں دونوں میاں بیوی میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ویکسین لگوانے کے باوجود کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنا باعث تشویش ہے۔ ویکسین لگوانے کے باوجود جوڑے میں کورونا وائرس کی تشخیص نے ہیلتھ ورکرز میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ ویکسین کی ابتدائی ڈوز کے تین ہفتے بعد تک جسم میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جانی چاہئیے تھی۔ اس انکشاف کے بعد یہ خدشہ بھی ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ افراد جنہوں نے ویکسین لگوائی اُن میں بھی وائرس کی دوبارہ تشخیص ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب صوبائی سطح پر پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سائنو فارم ویکسین کو جسم میں اینٹی باڈیز بنانے میں چودہ دن کا وقت درکار ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ویکسین کی پہلی ڈوز لگوانے کے باوجود لوگوں کا تمام کورونا ایس او پیز پر عمل کرنا لازمی ہے تاکہ وہ کورونا وائرس کے وار سے محفوظ رہ سکیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.