پریس کانفرنس میں نہیں آنا چاہتا تھا

پریس کانفرنس میں نہیں آنا چاہتا تھا، سب کے اصرار پر آیا، مولانا فضل الرحمان
پیپلزپارٹی جمہوریت جمہوریت کہتے تھکتی نہیں، جب استعفے دینے کی باری آئی، تو بھاگ گئی، مولانا فضل الرحمان کی آصف زرداری کے غیر جمہوری رویے کی مذمت، پریس کانفرنس میں سب کے اصرار پر آنے کا انکشاف کر دیا

اسلام آباد (16 مارچ 2021) پی ڈی ایم کے اجلاس میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پریس کانفرنس میں نہیں آنا چاہتا تھا، سب کے اصرار پر آیا۔ تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان آج پی ڈی ایم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں نہیں آنا چاہتے تھے، سب کے اصرار پر کانفرنس میں آئے، انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے آنے تک لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم اتحاد ابھی ٹوٹنا نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی نے وقت مانگا ہے، پی ڈی ایم جواب کا انتظار کرےگی۔سربراہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اجلاس میں پیپلزپارٹی کا رویہ غیرجمہوری تھا۔نجی ٹیلی ویژن چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اجلاس میں 9 جماعتیں استعفوں کے حق میں اورپیپلزپارٹی مخالف تھی، پیپلزپارٹی جمہوریت جمہوریت کہتے تھکتی نہیں۔یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان 26مارچ کے جلسے کو ملتوی کرنے کی پریس کانفرنس میں اعلان کر نے کے فوراً بعد ہی ڈائس سے چلے گئے تھے، اور مریم نواز آوازیں دیتی رہ گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے ساتھ استعفوں کو وابستہ کرنے کے حوالے سے 9 جماعتیں اس کے حق میں تھیں اور پیپلزپارٹی کو اس سوچ پر تحفظات تھے، پی پی نے وقت مانگا ہے کہ ہم پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی طرف رجوع کریں گے اور پھر پی ڈیم کو اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے وقت مانگا ہے، پی ڈی ایم جواب کا انتظار کرےگی۔انہوں نے کہا کہ میں پریس کانفرنس میں نہیں آنا چاہتا تھا، سب کے اصرار پر آیا اور اعلان کیا، مزید کیا بات کرتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اتحاد ابھی قائم ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ہم نے پیپلزپارٹی کو موقع دیا ہے اور ہمیں ان کے فیصلے کا انتظار ہوگا لہٰذا 26 مارچ کا لانگ مارچ پیپلزپارٹی کے جواب تک ملتوی تصور کیا جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.