پاکستان اور بھارت کےمابین مختصر ٹی ٹونٹی سیریز

رواں برس پاکستان اور بھارت کےمابین مختصر ٹی ٹونٹی سیریز کا امکان
سیریز قابل عمل ہوتی ہے تو بھارتی ٹیم پاکستان کا دورہ کریگی کیوںکہ آخری بار پاکستانی ٹیم بھارت گئی تھی: ذرائع پی سی بی

لاہور (24 مارچ 2021ء ) کرکٹ ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کا ذریعہ بننے لگی، پاکستان اور بھارت کے درمیان حال ہی میں امن بحالی کی کوششوں کے بعد امید کی ہلکی سی کرن اب اس جانب اشارہ دے رہی ہے کہ اس سال روایتی حریفوں کے درمیان مختصر ٹی ٹونٹی سیریز ہوسکتی ہے۔ پی سی بی کے ایک افسر سے کرکٹ ڈپلومیسی کے بارے میں سوال کیا گیا تو پہلے انہوں نے انکار کیا تاہم پھر یہ اشارہ دیا ہے پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی کے سلسلے میں ہم سے براہ راست کسی نے بات نہیں کی لیکن ایسے اشارے ضرور مل رہے ہیں، ہمیں کہا گیا ہے کہ تیاری رکھیں۔میڈیا نمائندوں کے رابطے پر پی سی بی چیئرمین احسان مانی کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہم سے ابھی تک کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہم بھارتی کرکٹ بورڈ کے ساتھ اس بارے میں بات چیت میں شرکت کررہے ہیں۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی بی جے پی حکومت میں ہی پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ سیریز بحال ہوئی ہے۔ یہ کوششیں کرنے والے وہی لوگ جن کی کوششوں سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات معمول پر لانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے مابین امن کے وسیع تر روڈ میپ میں کرکٹ کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان آخری دو طرفہ سیریز 13-2012ء میں بھارت میں کھیلی گئی تھی جس میں 2 ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز 1-1 برابر رہی تھی جب کہ پاکستان نے ون ڈے سیریز میں 1-2 سے کامیابی حاصل کی تھی،9 سال قبل ہونے والی اس سیریز کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان صرف آئی سی سی ایونٹس اور ایشیاء کپ میں مقابلہ ہوتا آرہا ہے۔پی سی بی ذرائع کا کہنا تھا اگر اس سال سیریز قابل عمل ہوتی ہے تو بھارتی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی کیوں کہ آخری بار پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ اس سال بھی بھارت میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اکتوبر میں ہونا ہے۔ بھارتی میڈیا میں بھی ایسی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ اس سال پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر ٹی ٹونٹی سیریز ہوسکتی ہے۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ اس سال پاکستانی ٹیم کا شیڈول مصروف ہے لیکن اگر دونوں حکومتوں کے درمیان کرکٹ سیریز کھیلنے پر اتفاق ہوتا ہے تو 3 ٹی ٹونٹی میچوں کیلئے 6 دن کی ونڈو نکالنا مشکل نہیں ہوگا۔ دوسری جانب 31 مارچ اور یکم اپریل کو شیڈول آئی سی سی میٹنگ میں بھارت نے بتانا ہے کہ ورلڈ ٹی ٹونٹی میں شرکت کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں ، صحافیوں اور تماشائیوں کو ویزوں اور سکیورٹی کے بارے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.