پاکستانی خالق حقیقی سے جا ملا

سجدہ کی حالت میں ایک پاکستانی خالق حقیقی سے جا ملا
صحابی جلیل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ’’جو کوئی مدینہ میں مر-نے کی استطاعت رکھے، اسے چاہیے کہ وہ مدینہ میں مرے، کیوں کہ جو مدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔‘‘ (ترمذی) امام بخاری نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے لکھا ہے کہ آپ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے اپنے

راستے میں شہادت کی مو-ت عطا کر اور میری اس مو-ت کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں عطا کر۔‘‘ امام بخاری دوسری جگہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ سے محبت اور مدینہ منورہ میں مو-ت اور دفن کا ذکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مرض المو-ت میں اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کو حکم دیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا کر کہو کہ ’’عمر سلام کہتے ہیں، لیکن خبردار امیرالمومنین نہیں کہنا، کیوں کہ آج عمر مومنین کا امیر نہیں ہے۔ کہنا کہ عمر اپنے مصاحبین (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر صدیق) کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہتا ہے۔‘‘ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام پیش کرکے گھر میں داخل ہونے کی درخواست کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی رو رہی تھیں۔ ابن عمر نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پیغام پہنچایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ میری خواہش تھی کہ میں یہاں دفن ہوں، آج کا دن مجھ پر بہت بھاری ہے۔ ابن عمر جب واپس گھر پہنچے تو لوگوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر آگئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے اٹھاؤ۔ ایک آدمی نے سہارا دے کر اٹھایا تو کہنے لگے عبداللہ کیا جواب لائے؟ کہا جو امیر المومنین چاہتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ حضرت عمر نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑھ کر میرے لیے کوئی اور چیز اتنی زیادہ اہم نہ تھی۔ خلیفہ راشد عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ سے محبت، مدینہ منورہ میں مو-ت اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کی تمنایوں ہی نہ تھی، بلکہ آپ نے مدینہ منورہ کے فضائل اپنے کانوں اور آنکھوں سے دیکھ اور سن رکھے تھے۔ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر سے واپسی پر مدینہ منورہ کی محبت میں بے چین ہوجانا، مدینہ منورہ میں بیماری اور تنگ دستی دیکھ کر اپنے رب سے مکہ کی نسبت ہر چیز میں دو گنی برکت کی دعا کرنا اور مدینہ منورہ کے غبار کو شفا قرار دینا، شوق محبت میں حرم کعبہ کی طرح مدینہ منورہ کو حرم قرار دے کر حدود متعین کرنا، مدینہ منورہ میں اپنی مسجد کے ایک حصے یعنی اپنے منبر سے اپنے حجرہ مبار ک تک کی زمین کو جنت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا بتانا، یہ وہ سب فضائل اور خصوصیات ہیں مدینہ طیبہ کی، جن کی وجہ سے صحابہ کرام سے لے کر آج تک دنیا کے ہر مسلمان کے دل میں یہ خواہش برابر موجود رہی ہے کہ اسے مدینہ منورہ کی دائمی سکونت نصیب ہو، اسے مو-ت آئے تو مدینہ منورہ میں آئے اور جنت البقیع میں دفن ہونا نصیب ہو، جہاں دس ہزار سے زیادہ صحابہ کرام سمیت اہل بیت و ازواج مطہرات اور بڑے بڑے اولیائے کرام مدفون ہیں یا کم ا ز کم اسے زندگی میں مدینہ منورہ دیکھنے کی باربار نہ سہی ایک بار ہی دیکھنے کی سعادت مل جائے۔ مدینہ منورہ سے جڑی مسلمانوں کی اس گہری عقیدت کے پیچھے بس ایک ہی ہستی ہے جن کی محبت ہر مسلمان کے لیے ماں باپ بہن بھائی بیوی بچوں اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ یہ عقیدت چودہ سو سالوں سے یوں ہی متواتر سینہ بہ سینہ، نسل در نسل چلی آرہی ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ عقیدت اور محبت یوں ہی برقرار رہے گی۔ ہر دور میں مسلمانوں کی خواہش رہی ہے کہ انہیں مدینہ منورہ کی مو-ت اور مدفن نصیب ہو۔  ہر زمانے کے لوگ اپنی اس آرزو کو پورا کرنے اور مدینہ منورہ کی مبارک مٹی کی خاطر دور دراز سے گھربار چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے مدینہ منورہ چلے آتے تھے۔ شارح مسلم امام نووی نے مدینہ منورہ میں مو-ت کی دعا کرنے کو مستحب لکھا ہے، جبکہ دیگر علماء نے مدینہ منورہ میں دفن ہونے کو مستحب قرار دیا ہے۔ مسلمانوں میں مدینہ منورہ سے والہانہ عقیدت کا یہ حال رہا ہے کہ سالہا سال گزرنے کے باوجود لوگ مدینہ منورہ سے باہر نہیں نکلتے تھے کہ مبادا کہیں مدینہ طیبہ سے باہر مو-ت آجائے۔ آج بھی مدینہ منورہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سال ہا سال سے صرف اس غرض سے یہاں مقیم ہیں کہ انہیں ہمیشہ کے لیے جوارِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہوجائے لیکن خدا کی مرضی جسے جہاں چاہے مو-ت عطا کرے۔ بہت سے لوگ مدینہ منورہ میں برسوں مقیم رہے لیکن ان کے جانے کا وقت آیا تو مو-ت انہیں کہیں اور کھینچ کرلے گئی۔ چند دن پہلے ایسا ہی ایک واقعہ ہوا۔ لگ بھگ ساٹھ سال سے مدینہ منورہ میں مقیم 90سالہ پاکستانی شہری سردار میں عالم خان لغاری (جو جنوبی پنجاب کے مشہور لغاری خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور علامہ سید محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ کے دور میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے منتظم بھی بنائے گئے تھے) رحیم یارخان میں وفات پاگئے۔ موصوف کی خواہش تھی کہ انہیں مدینہ منورہ میں مو-ت آئے اور یہاں کی مٹی نصیب ہو، اسی خواہش کے لیے نصف صدی مدینہ منورہ میں گزاردی، لیکن تقدیر کو کون ٹال سکتا ہے۔ گزشتہ سال حج کے بعد پاکستان سے واپس آئے تو پکا ارادہ کرلیا کہ اب امام مالک کی طرح مدینہ منورہ سے باہر ہرگز نہیں جائیں گے، لیکن خدا کی شان چند دن پہلے ان کے گھروالوں نے بچوں کی شادی کے موقع پر مجبور کرکے پاکستان بلالیا۔ پاکستان پہنچتے ہی طبیعت خراب ہوئی اور وہ مدینہ منورت کی مو-ت اور دفن کی حسرت لیے رب کے حضور جا پہنچے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور مدینہ منورہ کی مو-ت کا اجر عطا کرے۔ ایک اور واقعہ بھی گزشتہ دنوں ہوا۔ راقم کے محسن استاد مولانا احسان اللہ (استاد دارالعلوم رحیمیہ ملتان) کے والد ماجد غلام میرخان جنہوں نے گورنمنٹ اسکول سے ریٹائر ہونے کے بعد 60سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا، چند سال مدینہ منورہ میں مقیم رہنے کے بعد ر

Sharing is caring!

Comments are closed.