میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں

”میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں“ پہلی بیوی نے شوہر کو اجازت دے کر بڑا دھوکا کر ڈالا
سعودی خاتون نے خاوند سے اس کا پلاٹ اپنے نام کروا کر دوسری شادی کی اجازت دی اور پھر خلع کا دعویٰ دائر کر دیا

ریاض(۔25مارچ2021ء) دُنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں مرد دوسری تیسری شادی کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ تاہم پہلی بیوی کی غیر رضامندی اور ازدواجی تعلقات میں تلخی اس راستے کی بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ورنہ عاشق مزاج مرد حضرات اپنی اس خواہش کو تکمیل کرنے میں ایک منٹ نہ لگائیں۔ سعودی عرب میں ایک شخص کو دوسری شادی کی خواہش بہت بھاری پڑ گئی۔سعودی شہر ی کی پہلی بیوی نے بظاہر اس کی شرط مان کر اجازت دے دی، مگر ساتھ میں یہ شرط رکھ دی کہ وہ اپنا پلاٹ اس کے نام لگائے گا۔ دوسری شادی کے شوقین خاوند نے جھٹ پٹ پلاٹ پہلی بیوی کے نام لگا دیا۔ تاہم تبھی اس کو احساس ہوا کہ اس کے ساتھ بڑا دھوکا ہو گیا ہے۔ بیوی نے پلاٹ اپنے نام ہوتے ساتھ ہی خاوند کے خلاف خلع کا مقدمہ درج کروا دیا ہے۔سعودی شہری نے عدالت کو بتایا کہ اس کی بیوی نے دوسری شادی کی اجازت دینے کا ڈھونگ رچا کر اس کا 8 لاکھ ریال مالیت کا قیمتی پلاٹ ہتھیا لیا ہے جو اس نے شمالی ابحر کے علاقے میں خرید رکھا تھا۔بیوی کی اس دھوکا دہی کے بعد خاوند نے ایک وکیل سے رابطہ کیا تو وکیل نے بھی اسے مایوس کُن جواب دیتے ہوئے بتایا کہ چونکہ آپ نے اپنی مرضی سے اور بقائمی ہوش و حواس، بغیر کسی جبر کے اپنا پلاٹ بیوی کے نام منتقل کیا ہے اور تمام تر قانونی کارروائی بھی مکمل ہو چکی ہے۔ لہٰذا اب اس پر اعتراض اٹھانے اور عدالت سے رجوع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ خاوند کی جانب سے بیوی کو تحفے میں کوئی بھی رقم یا اثاثہ منتقل کرنا ازدواجی معاملات کے زمرے میں آتا ہے۔ جس پر کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے آپ کا عدالت میں یہ موقف کہ بیوی نے آپ کے ساتھ دھوکا دہی کر کے پلاٹ اپنے نام منتقل کروایا ہے، قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔ وکیل کے اس جواب کے بعد سعودی خاوند نے اپنا سر پیٹ لیا ۔ کیونکہ اس کی پہلی بیوی بھی اب ساتھ رہنے کو تیار نہیں۔ پلاٹ کی صورت میں قیمتی اثاثہ بھی ہاتھ سے گیا اور دوسری شادی کا خواب بھی اب پورا ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک ستر سالہ سعودی بزرگ کے ساتھ بھی ایسا معاملہ پیش آیا تھا جب اس نے 20 سالہ دوشیزہ سے شادی کی، جس نے اسے بہلا پھسلا کر اس کا مکان اپنے نام کروا لیا۔ جس کی وجہ سے بزرگ کے بیٹے بیٹیاں اس سے سخت ناراض ہو چکے ہیں اور اس کی نوجوان بیوی نے بھی مکان اپنے نام منتقل ہونے کے بعد خلع کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.