مکمل طور پر روحانی ہو گیا

وزیراعظم کی رہائش گاہ بنی گالا کا ماحول مکمل طور پر روحانی ہو گیا
بنی گالا سربراہ حکومت کی رہائش گاہ سے زیادہ روحانی درگاہ بن گئی،حال ہی میں بنی گالہ جانے والے تحریک انصاف کے رہنما نے بہت بڑی بڑی تبدیلیاں نوٹ کیں۔ سہیل وڑائچ کا کالم میں اظہارِ خیال

اسلام آباد (۔18 مارچ 2021ء) وزیراعظم کی رہائش گاہ بنی گالا کا ماحول مکمل طور پر روحانی ہو گیا ۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی سہیل وڑائچ اپنے کالم ’کون کہا کھڑا ہے‘ میں کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے یہ بات وثوق سے کی جا رہی ہے کہ ان کا رحجان روحانیت کی طرف بڑھ رہا ہے او وہ مادہ پرستی سے دور ہو تے جا رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے ایک رہنما کو حال ہی میں کافی عرصے بعد بنی گالہ جانے کا موقع ملا تو اس نے وہاں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں نوٹ کیں۔بنی گالہ کا ماحول مکمل طور پر روحانی ہو چکا ہے۔بابا فرید کی تعلیمات اور ان کے درمودات کے عکس جگہ جگہ نظر آتے ہیں،بنی گالا سربراہ حکومت کی رہائش گاہ سے زیادہ روحانی درگاہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور ظاہر ہے کہ اس تبدیلی کے اثرات وزیراعظم کی شخصیت پر بھی منعکس ہو رہے ہیں۔سینیٹ الیکشن کے بعد سیاست کی نئی بساط بچھنی شروع ہو رہی ہے۔میرے نیے سرے سے کھڑے کیے جائیں گے اور کھیل بھی نیا ہو گا،سب سے پہلا مرحلہ تو لانگ مارچ ہو گا۔اپوزیشن کی کوشش ہو گی کہ وہ بڑے سے بڑا کراؤڈ اسلام آباد لے کر جائے اور وہاں متاثر کن مظاہرے کرے، وہاں زیادہ دن بیٹھنے یا دھرنا پر فی الحال اپوزیشن کا اتفاق نہیں لیکن اگر مجمع زیادہ ہوا تو پھر حالات خراب بھی ہو سکتے ہیں۔ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی تلاطم رک جائے گا یا حالات نارمل ہو جائیں گے،فی الحال دو طرفہ تماشہ جاری رہنے کا امکان ہے۔اڑھائی سال گزرنے کے بعد عمران خان حکومت یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔سہیل وڑائچ مزید لکھتے ہیں کہ حکومت سے مایوسی بڑھ رہی ہے،حکومت سے جو امیدیں باندھی گئی تھیں وہ آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.