مشاورت کے بعد حکمت عملی طے

پی ڈی ایم اجلاس، نواز شریف اور مریم نواز میں طویل مشاورت کے بعد حکمت عملی طے
مریم نواز اجلاس میں استعفوں اور لانگ مارچ کا آپشن سامنے رکھیں گی،تحریک عدم اعتماد کی کھل کر مخالفت کی جائے گی

اسلام آباد (16 مارچ2021ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور نائب صدر نون لیگ مریم نواز نے طویل مشاورت کے بعد پی ڈی ایم اجلاس کے لیے حکمت عملی طے کر لی ہے۔مریم نواز پی ڈی ایم اجلاس میں لانگ مارچ اور استعفوں کا آپشن رکھیں گی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے غیر معمولی اجلاس کے لیے ن لیگ نے ایجنڈا پوائنٹس اور حکمت عملی طے کر لی ہے۔پی ڈی ایم اجلاس کے حوالے سے مریم نواز اور نواز شریف کے مابین طویل مشاورت ہوئی ہے۔مریم نواز پی ڈی ایم اجلاس میں لانگ مارچ اور استعفوں کا آپشن سامنے رکھے گی۔ ن لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ ن لیگ تحریک عدم اعتماد کے آپشن کی کھل کر مخالفت کرے گی۔چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کا حشر دیکھ لیا ہے اب پی ڈی ایم سنجیدہ فیصلہ کرے۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ کے ممکنہ دلائل میں کہا گیا ہے کہ کامیابی کے قریب ہیں۔پی ڈی ایم پر فیصلے مسلط نہ کیے جائیں ، ایک ہی حربہ بار بار آزمانے سے پی ڈی ایم مذاق نہ بن جائے۔ن لیگ کا کہنا ہے کہ ملکی بقا کے لیے کوئی اسے انا نہ بنائے، ہر بار انہی کی سنی جائے ۔مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال، پرویز رشید اور مریم اورنگزیب مریم نواز کی معاونت کریں گے۔۔خیال رہے کہ قبل ازیں بتایا گیا کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اتحاد کی سربراہی چھوڑنے کی دھمکی دیدی ہے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے آصف زرداری اور نواز شریف کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے دونوں شخصیات سے شکوہ کیا ہے کہ اگر بلاول بھٹو اور مریم نواز نے خود فیصلے کرنے ہیں تو انہیں سربراہی کیوں دی گئی ۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اور مریم نواز اپوزیشن اتحاد کے فیصلے تنہا کر رہے ہیں، دیگر جماعتوں کے رہنمائوں کے بھی اس پر شدید تحفظات ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے شکوہ کیا کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان پی ڈی ایم کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا جبکہ سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان میڈیا میں کیا گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.