لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ

این سی او سی کا ملک بھر میں وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ
تجارتی سرگرمیاں 8 بجے بند، ہنگامی صورتحال کے علاوہ نقل و حمل کی اجازت نہیں ہو گی، ہر قسم کی ان ڈور ڈائنگ پر بھی پابندی رہے گی۔ این سی او سی کا فیصلہ

اسلام آباد (اُ22 مارچ 2021) ملک بھر میں وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس میں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پابندیاں سخت کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں کورونا کیسز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں ملک بھر میں وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔این سی او سی نے کورونا سے شدید متاثرہ علاقوں میں سخت اقدامات پر زور دیا۔ہائی رسک شہروں میں نقل و حمل محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ملک بھر میں ہنگامی صورتحال کے علاوہ ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔کورونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا فیصلہ کیا گیا،تمام کمرشل پابندیاں رات 8 بجے بند کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ہرقسم کی ان ڈور ڈائینگ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایس سی او سی کے فیصلے کے مطابق کھانا پارسل میں لے جانے کی اجازت ہو گی۔تمام تفریحی پارکس بھی بند رہیں گے، ریل گاڑیوں میں 70 فیصد سواریاں بٹھانے کی اجازت ہو گی۔ شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ 50 فیصد سواریوں کے ساتھ جاری رہے گی۔ بند مقامات پر ہونے والے تمام، ثقافتی ، مذہبی اور موسیقی کے پروگرامز پر پابندی ہو گی۔سینما اور مزارات مکمل طور پر بند رہیں گے۔ایس او پیز کے ساتھ 300 افراد کے آوٹ ڈور اجتماعات کی اجازت ہو گی۔جب کہ تقریب کا دورانیہ دو گھنٹے پر مشتمل ہو گا۔ ملک بھر کی عدالتوں میں لوگوں کی آمد و رفت کم رہے گی،سرکاری و نجی اداروں میں 50 فیصد عملے کی پالیسی برقرار رہے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.