فہد بن سعود الکبیرانتقال کر گئے

سعودی شاہی خاندان کو ایک اور صدمہ، شہزادہ بدر بن فہد بن سعود الکبیرانتقال کر گئے
سعودی شاہی ایوان کے مطابق مرحوم شہزادہ بدر بن فہد کی گزشتہ روز تدفین کر دی گئی

ریاض(24 مارچ2021ء) سعودی عرب میں فروری کا مہینہ شاہی خاندان پر بہت بھاری ثابت ہوا تھا۔ اس ماہ کے دوران متعدد سعودی شہزادیاں اور شہزادے دُنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔اس ماہ کے دوران چھ سے زائد شہزادے اور شہزادیاں انتقال کر گئے تھے۔تاہم مارچ کے مہینہ بھی شاہی خاندان کے لیے بھی بُری خبریں لایا ہے۔ ابھی پچھلی اموات کا صدمہ کم نہ ہو پایا تھا کہ ایک اورشہزادہ انتقال کر گیا ہے۔ سعودی ایوان شاہی کے مطابق شاہی خاندان کے معروف شہزادے بدر بن فہد بن سعود الکبیر گزشتہ روز انتقال کر گئے ہیں۔ شہزادہ بدر بن فہد کی نماز جنازہ گزشتہ روز ریاض شہر میں ادا کرنے کے بعد ان کی تدفین کر دی گئی ہے۔ نماز جنازہ میں شاہی خاندان کے علاوہ مملکت کی ممتاز سرکاری و کاروباری شخصیات نے بھی شرکت کی ۔ایوان شاہی کی جانب سے مرحوم شہزادے کی مغفرت اور بلند درجات کے لیے دُعا بھی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ 19 مارچ کو سعودی شہزادہ بندر بن ذعار بن ترکی بن عبدالعزیز بھی انتقال کر گئے تھے۔گزشتہ ماہ فروری کے آخری ہفتے میں شہزادہ فہد بن محمدبن عبدالعزیز السعود بن فیصل السعود انتقال کر گئے تھے۔ جن کی نماز جنازہ ریاض شہر میں ادا کرنے کے بعد ان کی تدفین کی کی گئی تھی۔ ان کے انتقال سے چند روز قبل شاہی خاندان کی معروف شخصیت شہزادی لمیا بنت ھذلول بن عبدالعزیز آل سعود انتقال فرما گئی تھیں۔شہزادہ عبدالرحمان المساعد نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شہزادی ھذلول کی وفات کی اطلاع پردیتے ہوئے بتایا تھی کہ مرحوم شہزادی ان کی چچا زاد بہن اورسالی بھی تھیں۔شہزادی لمیا کے والد شہزادہ ھذلول بن عبدالعزیز بانی مملکت کے 32 ویں بیٹے تھے۔ جن کا انتقال 29 ستمبر 2012 کو جنیوا میں ہوا تھا۔شہزادہ ھذلول بن عبدالعزیز سعودی الہلال کلب کے دو بار چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔ شہزادی لمیا کی وفات سے دو روز قبل سعودی شہزادی دنا بنت عبداللہ بن ترکی بن عبدالعزیز انتقال کرگئی تھیں۔جن کی نماز جنازہ مکہ مکرمہ میں ادا کرنے کے بعدمقامی قبرستان میں تدفین کی گئی تھی۔ شہزادی دنا شہزادہ عبداللہ بن ترکی بن عبدالعزیز کی بیٹی تھیں۔اس سے کچھ روز قبل سعودی شہزادے عبدالرحمان بن فیصل بن سعود کی والدہ انتقال فرما گئی تھیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.