صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ

صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ ،مرزامحمدآفریدی ڈپٹی چیئرمین منتخب
اسلام آباد ایوان بالاچیئرمین سینیٹ کا بڑا معرکہصادق سنجرانی نےجیت لیا۔ڈپٹی چیئرمین کی سیٹمرزامحمد آفریدی کے حصے میں آئی صادق سنجرانیچیئرمین سینیٹ اور مرزامحمد آفریدی ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے ،چیئرمین سینیٹ کو48ووٹ پڑے جبکہ ڈپٹی

چیئرمین کو54ووٹ پڑےجبکہ ان کے مدمقابل امیدوارمولانا عبدالغفور حیدری کو44ووٹ ملے۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کو ایوان بالا کااجلاس پریذائیڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ کی زیرصدارت صبح دس بجے شروع ہو ا اورنومنتخب اراکین نے چھ سال تک ایوان بالا کی رکنیت کا حلف اٹھایا ۔ حلف اٹھانے والوں میں پنجاب سے مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، پی ٹی آئی کے سیف اللہ نیازی، عون عباس، اعجاز چودھری، سید علی ظفر، زرقا سہروردی تیمور، مسلم لیگ (ن) کے افنان اللہ خان، ساجد میر، عرفان الحق صدیقی، اعظم نذیر تارڑ اور سعدیہ عباسی شامل تھے۔سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا، شیری رحمن، تاج حیدر، شہادت اعوان، جام مہتاب حسین ڈاہر، فاروق حامد نائیک، پلوشہ محمد زئی خان، پی ٹی آئی کے محمد فیصل واوڈا، سیف اللہ ابڑو، ایم کیو ایم پاکستان کے سید فیصل علی سبزواری اور خالدہ اطیب نے حلف اٹھایا۔خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کے محسن عزیز، سید شبلی فراز، لیاقت خان ترکئی، فیصل سلیم رحمن، ذیشان خانزادہ، دوست محمد خان، محمد ہمایوں مہمند، ثانیہ نشتر، فلک ناز، گردیپ سنگھ، عوامی نیشنل پارٹی کے ہدایت اللہ خان اور جے یو آئی (ف) کے عطا الرحمن حلف اٹھانے والوں میں شامل تھے۔بلوچستان سے بلوچستان عوامی پارٹی کے پرنس احمد عمر احمد زئی، منظور احمد، سرفراز احمد بگٹی، سعید احمد ہاشمی، ثمینہ ممتاز، دنیش کمار، بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد قاسم، اے این پی کے عمر فاروق، جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری، کامران مرتضیٰ، آزاد امیدوار محمد عبدالقادر اور نسیمہ احسان حلف اٹھانے والوں میں شامل تھیں۔ یہ اراکین 6 سال کے لئے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔اجلاس کے دوران پولنگ بوتھ پر خفیہ کیمرے نصب کیے جانے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ہنگامہ کھڑا ہوگیا اورشورشرابہ کیاگیا۔ایوان میں حلف برداری کے فوراً بعد پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کی قیادت میں اپوزیشن اراکین کی جانب سے پولنگ بوتھ میں مبینہ طور پر خفیہ کیمرے نصب ہونے پر احتجاج کیا گیا۔رضا ربانی کے اعتراض کے بعد اپوزیشن اراکین نے ایوان کے اندر شیم شیم کے نعرے لگائے اور کہا کہ کیمرے لگانا شکست کی نشانی ہے، ساتھ ہی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کی جائیں کہ ایوان کا کنٹرول کس کے پاس تھا۔اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود پریزائنڈنگ افسر نے ایجنڈے سے ہٹ کر کوئی معاملہ موضوع بحث لانے سے انکار کردیا البتہ موجودہ پولنگ بوتھ کو ہٹا کر نیا پولنگ بوتھ لگانے کی ہدایت کی۔رضا ربانی نے کہا کہ پولنگ بوتھ کے اندر کیمرے لگانا کسی قانون میں نہیں یہ اقدام آئین و قانون کے منافع ہے ،یہ اقدام عدالت کی بھی خلاف ورزی ہےاس موقع پرقائد ایوان وسیم شہزاد اوراعظم سواتی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے ۔ میاں رضا ربانی اور وفاقی وزیر اعظم سواتی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔بارہ بجے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے نامزد امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی داخل ہوئے ،چیئرمین سینیٹ کیلئے حکومتی کی جانب سے صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے مرزا محمد خان آفریدی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے سید یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے مولانا غفور حیدری کےداخل کرائے گئے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کیا گیا ، چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدواروں پر کسی نے اعتراض نہیں لگایا گیا۔سید یوسف رضا گیلانی نے فاروق ایچ نائیک کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا، عبدالغفور حیدری نے کامران مرتضی کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا۔جس کے بعد پریذائیڈنگ افسرنے نماز جمعہ کا وقفہ کردیا اور رولنگ دی کہ پولنگ بوتھ نئے قائم کیے جائیں ۔ نئے پولنگ بوتھ قائم کیے گئے اور سیکرٹری سینٹ کی نگرانی میں دوبارہ تمام انتظامات مکمل کیے گئے جس کے بعد اپوزیشن اور حکومتی نمائندوں کو پولنگ بوتھ کا جائزہ لینے کا کہا گیا اور انہوں نے پولنگ بوتھ کا جائزہ لیا۔نماز جمعہ کے بعد دوبارہ سینیٹ کا اجلاس سید مظفر شاہ صدارت میں شروع ہوا توپریذائیڈنگ افسران نے اراکین کو اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور سینیٹ ہال کے دروازے بندکردیئے گئے ۔مظفر شاہ نے سید یوسف رضا گیلانی کو کہا کہ آپ بھی اپنی نشست پر بیٹھ جائیں ۔کیمروں کے معاملے پر پریزائیڈنگ افسر نے تحقیقات کی ہ…

Sharing is caring!

Comments are closed.