سعودی عرب میں مقیم پاکستانی اقامہ

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی اقامہ گُم ہو جانے پر کیا کریں؟
اقامہ گمشدگی کی رپورٹ فوری طور پر جوازات کے دفتر یا پولیس اسٹیشن میں درج کرانا ہوگی، ورنہ 6 ہفتے قید اور 3 ہزار ریال کا جرمانہ ہو گا

ریاض(۔16 مارچ2021ء) سعودی عرب میں ہر تارکِ وطن کی سب سے بڑی شناخت اس کا اقامہ ہوتاہے، جو اسے ہر وقت ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ اگر سیکیورٹی اہلکاروں کی چیکنگ کے دوران کوئی غیر ملکی اقامہ پیش نہ کر سکے تو اسے 6ہفتے قیدیا 3 ہزار ریا ل جرمانہ بھُگتنا ہوگا۔بعض صورتوں میں یہ دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جا سکتی ہیں۔اُردو نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اقامہ گم ہونے کی صورت میں کن ہدایات پر عمل کرنا ہو گا۔ٰ1۔ اقامہ کی گمشدگی کی اطلاع فوری طور پر جوازات کے کسی بھی دفتر میں درج کرائی جائے ایسے علاقے جہاں جوازات کے دفترنہ ہوں وہاں پولیس اسٹیشن میں اقامہ گم ہونے کی اطلاع کی جائے۔ 2۔ سپانسر سے جوازات کے نام درخواست تیار کی جائے جس میں وضاحت کے ساتھ درج کیا جائے کہ اقامہ کس طرح اور کہاں گم ہوا۔3۔ اگر گم شدہ اقامہ غیر ملکی کے اہل خانہ جو کہ قانونی طورپر ’مرافقین ‘ کہلاتے ہیں کا ہو تو سربراہ خانہ کی جانب سے ڈائریکٹر جوازات کے نام درخواست لکھی جائے گی۔4۔ جس شخص کا اقامہ گم ہوا ہے اس کے پاسپورٹ اور گمشدہ اقامے کی فوٹو کاپی (اگردستیاب ہو) کے درخواست کے ساتھ منسلک کی جائے گی۔ 5۔ جوازات کے دفتر یا ویب سائٹ سے درخواست فارم حاصل کر کے اسے پر کیاجائے۔ فارم پراسپانسر کی مہر اور دستخط بھی ہوں اگر مرافق کا اقامہ ہو تو سرپرست جو ان کے کفیل ہیں وہ دستخط کریں گے۔ 6۔ درخواست فارم کے ساتھ 2 عدد فوٹو سائز 4*6 درکار ہونگے۔ جوازات کی جانب سے مقررہ نکات میں مزید کہا گیا ہے کہ گم ہونے والے اقامہ کی مدت اگر ایک برس یا اس سے کم ہو تو ایک برس کی فیس 500 ریال جمع کرانی ہوگی۔ اگر کوئی شخص اقامہ گم کر دیتا ہے تو اسے نیا اقامہ بنانے کے لیے ایک ہزار ریال کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ جس کے بعد ڈپلیکیٹ اقامہ کارڈ جاری ہوگا۔کوئی بھی کارکن خود جوازات کے دفتر نہیں جا سکتا، بلکہ یہ سپانسر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اقامہ کارڈ جوازات کے دفتر سے حاصل کرکے کارکن کو دے۔ غیر ملکی کے اہل خانہ میں سے کسی کا اقامہ ہو تو سرپرست جو اہل خانہ کا کفیل ہے وہ جوازات سے رجوع کرکے اقامہ کارڈ کی دوسری کاپی حاصل کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ سعودی محکمہ جوازات نے ڈیجیٹل اقامہ بھی لانچ کردیا ہے جس سے تارکین کو کافی سہولت ہو گئی ہے۔ڈیجیٹل اقامہ ایپ بغیر انٹرنیٹ کے بھی کارآمد ہوتی ہے اس میں موجود کیو آر کوڈ کوریڈ کرکے تمام تفصیلات جوازات کے پورٹیبل کمپیوٹر پر چیک کی جا سکتی ہیں اس لیے بہتر ہے کہ تارکین اس سہولت سے مستفیض ہو کراپنے اسمارٹ فون پراقامہ ڈاون لوڈ کرلیں تاکہ ان کا اقامہ کارڈ محفوظ رہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.