سعودی عرب میں سینکڑوں پاکستانی

سعودی عرب میں سینکڑوں پاکستانی اور دیگرغیر ملکی انجینئرز کی ڈگریاں جعلی نکل آئیں
16 ہزار سے زائد غیر ملکی انجینئرز کے پاس ایسے سرٹیفکیٹ تھے جنہیں سعودی انجینئرنگ کونسل تسلیم نہیں کرتی ہے

ریاض( 13 مارچ2021ء) سعودی عرب میں ہزاروں غیر ملکی انجینئرز ملازمتیں انجام دے رہے ہیں جن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی گنتی ہے۔ تاہم متعدد غیر ملکیوں کی انجینئرنگ ڈگریاں جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے جن میں پاکستانی انجینئرز بھی شامل ہیں۔ سعودیہ کی انجینئرنگ کونسل نے بتایا ہے کہ مملکت میں مقیم 725 غیر ملکی انجینئرز کی ڈگریاں جعلی پائی گئیں جبکہ سال 2020ء کے دوران غیر مجاز جامعات کی طرف سے جاری کردہ 16 ہزار 887 اسناد ایسی تھیں جو مملکت کے مختلف شہروں میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو جاری کی گئیں، یہ جاری کردہ ڈگریاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ انجینیرز کونسل کے ترجمان انجینیرعبدالناصر العبداللطیف نے کہا کہ کہ کونسل کی شرائط پر پورا نہ اترنے والی تمام اسناد اور شرائط کے مطابق پانچ سالہ تجربہ نہ رکھنے والے انجینیرز کی ڈگریاں مسترد کردی گئیں۔ اس کے علاوہ انجینئرنگ کے پیشوں کے قانون کے حوالے سے 2 ہزار سے زائد خلاف وزیاں بھی ریکارڈ پر آئی ہیں۔بہت سے غیر ملکی کارکنان فرضی کالجز اور یونیورسٹیز کے نام پر سرٹیفکیٹ حاصل کر کے مختلف شہروں میں ملازمتیں کرتے پائے گئے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے والے افراد کو بھاری جرمانوں کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ جرمانوں کی زیادہ سے زیادہ حد ایک ملین ریال تک ہے۔ اس کے علاوہ دیگر انجینئرنگ قوانین کی خلاف وزری پر وارننگ لیٹر جاری کیا جا سکتا ہے۔ چھ ماہ تک پیشے کی معطلی ہو سکتی ہے یا پھر ایک لاکھ ریال تک کا جرمانہ اور لائسنس بھی منسوخ ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔انجینیر عبداللطیف نے بتایا کہ شاہی فرمان نمبر 36 مجریہ 1438ھ کے تحت انجینیرنگ کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے انجینئرنگ کے پیشوں کو عملی جامہ پہنانے کے نظام اور قانون پر عمل درآمد کی سختی سے تاکید کی جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.