سعودیہ میں غیر قانونی طور افراد

سعودیہ میں غیر قانونی طور افراد کو پناہ دینے پر سخت سز-ا کا اعلان ہو گیا
سعودی پبلک پراسیکیوشن کے مطابق در اندازوں کو کسی بھی قسم کی سہولت دینے والے کو 15 سال قید اور 10 لاکھ ریال جرمانہ ہوگا

ریاض(20 مارچ 2020ء) سعودی عرب میں 80 لاکھ سے زائدغیر ملکی روزگار کی غرض سے مقیم ہیں۔ کئی افراد ایسے بھی ہیں جو ویزہ مُدت ختم ہونے کے باوجود روپوش ہو کر چھوٹے موٹے کام کر کے اپنا گزارا کرتے ہیں۔ مملکت میں ان غیر قانونی تارکین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ جن کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران اب تک 45 لاکھ سے زائد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ تاہم ان غیر قانونی افراد میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو سعودی عرب کی زمینی یا سمندری سرحدوں کے ذریعے بغیر ویزے کے آ جاتے ہیں۔ سعودی حکام نے ان در اندازوں کو سہولت دینے والوں کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ سعودی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انتباہ کیا گیا ہے کہ در اندازوں کو سہولت فراہم کرنے والے افراد کو پانچ سال سے پندرہ سال تک قید کی سز-ا ہو گی۔ پبلک پراسیکیوشن نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ لوگ در اندازوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرتے ہیں، ان کے لیے محفوظ پناہ گاہ یا رہائش کا بندوبست کرتے ہیں ، انہیں روزگار فراہم کرتے ہیں یا کوئی اور سہولت دیتے ہیں، وہ ایک سنگین جُرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اگر ایسی سہولت کاری میں ملوث کوئی فرد پکڑا گیا تو اسے سعودی قانون کے مطابق کم از 5 سال سے 15 سال تک جیل بھیج دیا جائے گا اور دس لاکھ ریال کا جرمانہ بھی عائد ہو گا۔ در اندازی میں استعمال ہونے والی گاڑی اور رہائش گاہ ضبط کر لی جائے گی۔ اگر در اندازوں کو سفری سہولت میں استعمال ہونے والی گاڑی یا پناہ کے لیے دیا گیا گھر کسی اور کی ملکیت ہے تو اس مالک پر بھی دس لاکھ ریال کا جرمانہ ہوگا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.