زندگی کی حیران کن کہانی

بطور مزدور کھیتوں میں کام کرنے والا چین کا صدر کیسے بنا اور اس نے کرپشن کا خاتمہ کیسے کیا؟ شی جن پنگ کی زندگی کی حیران کن کہانی

لاہور (ویب ڈیسک ) میں جب بھی شی جن پنگ کو دیکھتا ہوں تو مجھے تیمور اور بابر بہت یاد آتے ہیں۔ دونوں فاتحین کی زندگی کے ابتدائی برسوں میں مسائل تھے، مشکلات تھیں۔ چین کے صدر شی جن پنگ کا بھی یہی حال ہے۔ نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔انکی ابتدائی زندگی بھی مشکلات سے بھری پڑی ہے، پندرہ جون 1953ءکو چینی صوبے شانکسی میں پیدا ہونیوالے شی جن پنگ کے والد شی زونگ شن چینی کمیونسٹ پارٹی کے وائس چیئرمین تھے، وہ چین کے نائب وزیراعظم بھی رہے۔چین کے موجودہ صدر کی زندگی کے پہلے دس برس تو چین کی حکمران کلاس کے درمیان گزرے مگر ابھی وہ گیارہ برس کے بھی نہیں ہوئےتھے کہ چین میں ثقافتی انقلاب کے نام پر افراتفری شروع ہو گئی۔شی جن پنگ کے والد کو گرفتار کر کے قید میں بھیج دیا گیا، اسکی والدہ چی شین پر سنگین مقدمہ بنا دیا گیا، اس سے بیجنگ کی گلیوں میں پریڈ کروائی جاتی رہی، شی جی پنگ کی بہن کو زندگی سے محروم کردیا گیا مگر شی پنگ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ بیجنگ سے دور چلا گیا، وہ غار میں رہتا تھا، جہاں اینٹوں کا بستر تھا۔ شی جن پنگ کافی عرصہ دیہات میں رہا، وہ کھیتی باڑی کرتا رہا، اس نے زراعت دل لگا کر کی۔وہ جس گائوں میں رہتا تھا تو وہاں بجلی نہیں تھی، سڑکیں بھی نہیں تھیں، کھیتی باڑی کیلئے مناسب اوزار بھی نہیں تھے، وہ لالٹین کی روشنی میں پڑھتا تھا کیونکہ تیرہ سال کی عمر میں اسکول سے محروم ہو گیا تھا۔ حالات کے جبر میں وہ دن بھر کام کرتا اور شب کو مٹی کا تیل ڈال کر لالٹین جلا لیتا پھر دیر تک پڑھتا رہتا۔افراتفری کم ہوئی تو شی پنگ نے چاہا کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کے یوتھ ونگ میں شامل ہو جائے۔ یوتھ ونگ میں شمولیت کیلئے وہ آٹھ بار فیل ہوا،

 

Sharing is caring!

Comments are closed.