تحفے اس کی جائیداد ہیں

شادی کے وقت دلہن کو دیئے گئے تحفے اس کی جائیداد ہیں، سپریم کورٹ
پاکستان میں قرآن مجید کے احکامات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، شادی کے وقت دئیے گئے تحفے دلہن کی جائیداد ہیں،جنہیں کوئی واپس نہیں لے سکتا، سپریم کورٹ نے تحریر فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد ( 10 مارچ2021ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے دلہن کی جائیداد کے حوالے سے تحریر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کے وقت دئیے گئے تحفے دلہن کی جائیداد ہیں، جنہیں کوئی واپس نہیں لے سکتا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 12 صفحات پر مشتمل تحریر فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ شوہر اپنی بیویوں کی میراث فراہمی کے لیے وصیت کیا کریں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قرآن مجید کے احکامات کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ عورت کو اپنی جائیداد رکھنے اور کاروبار کرنے کا پورا حق ہے۔ عورت کا والدین اور شوہر سے میراث لینے کا حق ، قانون میں واضح طور پر طے کیا گیا ہے۔اس کے باوجود ان باتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقار رکھتے وہئے  درخواستگزار محمد جمیل کو حق مہر فوری ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کا 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ہے۔ یاد رے کہ گزشتہ سال سپریم کورٹ نے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو حق مہر فوری ادا کرنا ہو گا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا تھا جس کے مطابق مہر معجل ہو یا غیر معجل دونوں صورتوں میں فوری واجب الادا ہوگا، دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت لازمی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ دوسری شادی کیلئے اجازت کا قانون معاشرے کو بہتر انداز سے چلانے کیلئے ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی سے کئی مسائل جنم لیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.