بڑے نقصان سے بچ سکیں

اگر آپ کا یورک ایسڈ بڑھ رہا ہے تو آپ کس خطرناک بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں؟ جان لیں تاکہ بڑے نقصان سے بچ سکیں

آج اِنسان مختلف بیماریوں میں گھر ہوا ہے، اور متعدد بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر ان کی وقت سے پہلے تشخیص نہ ہو تو بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ بظاہر اِنسان بیرونی طور پر بالکل تندرست نظر آتا ہے لیکن اندر مرض اپنا کام خاموشی سے اَنجام دے رہا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ایک مرض انسان کے جسم میں یورک ایسڈ کا بھی ہے۔ یورپ کے معروف ماہرِ اَمراض گردہ پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کے مطابق جسم میں یورک ایسڈ بڑھ جانے سے صرف گٹھیا کا مرض ہی لاحق نہیں ہوتا بلکہ نئی تحقیق کے مطابق ایسے مریضوں میں گردے فیل ہوجانے کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کا کہنا ہے کہ ہائپر یوریسیمیا یا جسم میں یورک ایسڈ کا بڑھ جانا میٹابولک سینڈروم کا ایک حصہ ہے جس کے نتیجے میں دل اور فالج کے حملے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بد قسمتی سے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یورک ایسڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کا کہنا تھا کہ جسم میں اس کیمیکل کو کنٹرول کر کے عارضہ قلب، فالج اور گردوں کے خراب ہونے سمیت مختلف امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کا کہنا تھا کہ یہ بات اب پرانی ہو چکی ہے کہ یورک ایسڈ کے بڑھنے سے صرف گٹھیا یا جوڑوں کا درد ہوتا ہے۔ کیونکہ جدید تحقیق کے مطابق یہ کیمیکل نہ صرف گردے ناکارہ کرنے، بلند فشار خون کا مرض لاحق کرنے بلکہ دل کے دورے اور فالج کے حملے کا بھی اہم سبب بنتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ تمام مریض جو ڈاکٹروں کے پاس جوڑوں کے درد کی شکایت لے کر آتے ہیں ان کا یورک ایسڈ کے معائنے کے ساتھ ساتھ ان کے گردوں کے افعال کا ٹیسٹ بھی کیا جانا چاہیئے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.