ایم این ایز کے نام خط

اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل وزیراعظم کا اپنے ایم این ایز کے نام خط
کل دوپہر 12 بج کر 15 منٹ تک تمام اراکین اسمبلی ہال پہنچ جائیں، بتائے گئے وقت کے بعد کسی رکن کو اسمبلی ہال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، اسمبلی نہ پہنچنے والے رکن کو ڈی سیٹ کروانے کی کاروائی شروع کی جائے گی: خط کا متن

اسلام آباد ( 05 مارچ 2021ء) وزیراعظم نے اپنے تمام اراکین قومی اسمبلی کو کل بروز ہفتہ دوپہر 12 بج کر 15 منٹ تک قومی اسمبلی پہنچنے کی ہدایت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے تمام اراکین قومی اسمبلی کے نام خصوصی خط تحریر کیا ہے۔ اپنے خط میں وزیراعظم نے حکومتی اراکین اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل دوپہر 12 بج کر 15 منٹ تک تمام اراکین اسمبلی ہال پہنچ جائیں۔ بتائے گئے وقت کے بعد کسی رکن کو اسمبلی ہال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی۔ خط میں ووٹ سے متعلق رولز کے بارے میں ارکان کو بتایا گیا ہے ۔ ایم این ایز کو کہا گیا ہے کہ پارٹی کی ہدایت کے مطابق تمام ارکان کو اعتماد کے ووٹ کیلئے حاضری یقینی بنانا ہوگی۔ پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی پر یہ اعلامیہ الیکشن کمیشن میں پیش کیا جا سکتا ہے۔اسمبلی نہ پہنچنے والے رکن کو ڈی سیٹ کروانے کی کاروائی شروع کی جائے گی۔غیرحاضر رکن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت ایکشن لیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اپنی جماعت اور اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی کو بھی کل صبح 10 بجے ناشتے پر بھی مدعو کیا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم نے عدم اعتماد کیلئے ارکان کو اعتماد میں لیا۔ پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور حق میں نعرے بازی بھی کی۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے ایک مقصد کیلئے سیاست شروع کی، جمہوریت اور رائے کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں۔مجھے کوئی بلیک میل کرکے اپنی بات نہیں منواسکا،مافیا کے ساتھ ابھی جنگ جاری ہے، ہم نے اس مافیا کا مقابلہ کرنا ہے، میر امنشور سیاست سے پیسے کو ختم کرنا ہے، جو میرے ساتھ ہیں وہ کل بھی میرے ساتھ ہوں گے، لیکن جس کو مجھ پر اعتماد نہیں کھل کر اظہار کرے،اگر میں آپ کی نظر میں غلط ہوں تو بے شک میرا ساتھ چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ووٹ کی امانت دے کر ایوان میں بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیدھی بات کرتا ہوں ہمارے 16 ارکان نے پیسے لے خود کو بیچا،جس سے حفیظ شیخ کو شکست ہوئی، آپ ضمیر کی آواز پر فیصلہ کریں پیسے لے کر ووٹ دینا بددیانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد میں ناکام ہوگیا تو آئندہ زیادہ اکثریت لے کر آؤں گا، مجھے ہارنے اور جیتنے کا زیادہ تجربہ ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.